تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 215 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 215

215 نائب صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ: محترمہ صادقہ خاتون صاحبہ اہلیہ محترم مولوی عبد الرحمن صاحب امیر جماعت احمدیہ قادیان جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ: محترمہ معراج سلطانہ صاحبہ اہلیہ بدرالدین صاحب عامل سیکرٹری مال لجنہ اماءاللہ مرکزیہ : محترمه خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ ٹھیکیدار بشیر احمد صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے ان عہدیداران نے آپ کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا۔سب سے پہلے مرکزی کام کے پیش نظر احاطہ مرزا گل محمد صاحب میں جہاں بچیوں کا مڈل سکول ہے ) ایک کمرہ لے کر لجنہ اماءاللہ کا دفتر کھولا گیا۔جہاں ہفتہ میں تین دن باقاعدگی سے کام ہوتا ہے اور مرکزی عہدیدارل کر کام کرتی ہیں۔جہاں تک قادیان کی مقامی لجنہ کا تعلق ہے اس کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی باقاعدگی سے ہورہا ہے۔لجنہ کے ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں۔سیرۃ النبی، جلسہ یوم مصلح موعود اور یوم خلافت با قاعدہ کئے جاتے رہے ہیں۔جلسہ سالانہ میں غیر مسلم خواتین مدعو کی جاتی ہیں۔خدمت خلق کا کام اور ناصرات الاحمدیہ کا کام بھی باقاعدہ ہوتا رہا ہے۔اسلام کی کتابوں کے امتحان لئے گئے جن میں قادیان کے علاوہ بھارت کی تمام ناصرات نے حصہ لیا۔ناصرات کے تقریری مقابلے ہوتے رہے۔چونکہ مقامی لجنہ کا کام تسلی بخش طور پر ہورہا تھا نیز مرکزی کام کے لئے زیادہ توجہ اور وقت درکار تھا اس لئے مقامی لجنہ کا علیحدہ انتخاب کروا کر محترمہ صادقہ خاتون صاحبہ کے سپرد کر دیا گیا۔وہ ۱۹۶۰ ء سے با قاعدہ صدر لجنہ اماءاللہ قادیان کے طور پر کام کر رہی ہیں۔۱۹۵۶ء کے آخر تک لجنات بھارت کی تعدا د سولہ سے بڑھ کر ۲۳ تک اور ۱۹۶۲ء میں ۲۶ تک ہوگئی ہے۔اس وقت مندرجہ ذیل مقامات پر لجنات قائم ہیں۔قادیان ، سکندر آباد دکن، حیدر آباد، بنگلور، مدراس، شموگہ، یاد گیر، چنتہ کنٹہ ، کوکبی (اڑیسہ)، گو ہالپور ( اڑیسہ ) محی الدین پور اڑیسہ ، جمشید پور حلقہ نمبرا، جمشید پور حلقہ نمبر۲، کنانور ( کیرالہ)، ( گوڈالی کیرالہ ) بھدرک (اڑیسہ)، کندرا پارا، کیرنگ، کرڈا چلی (اڑیسہ)، چک ایمر چھ (کشمیر) ٹائیں منکوٹ (پونچھ) چار کوٹ (پونچھ) شاہ جہانپور (یوپی)، ابراہیم پور (بنگال)، دھوان ساہی (اڑیسہ) ، پینکال (اڑیسہ)