تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 188
188 طرح کر سکیں جس طرح قادیان میں کیا کرتے تھے۔قادیان میں تو شاید ہی کوئی گھر ہوگا جس میں حضرت مسیح موعود بزرگان سلسلہ اور دیگر مذہبی اور علمی کتب کا ذخیرہ موجود نہ ہو۔لیکن اس قیامت صغریٰ کی بدولت جو ۱۹۴۷ء میں آئی لوگوں نے جہاں اپنا سب کچھ اپنے گھروں میں چھوڑا وہاں وہ اپنی کتب بھی وہیں چھوڑ آئے اس لئے بہت ہی ضروری تھا کہ ربوہ میں ایک زنانہ لائبریری قائم کی جائے جس سے عورتوں میں علمی ذوق پیدا ہو اور وہ کتب کو پڑھ کر اپنے علم کو بڑھائیں۔پس اس غرض کے لئے لجنہ اماءاللہ کی شوریٰ جو جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۴۹ء میں منعقد ہوئی۔میں نے یہ تجویز پیش کی کہ امتہ الحی لائبریری کو دوبارہ قائم کیا جائے اور اس کے لئے تین ہزار روپیہ کی تحریک کی۔شوری کے موقع پر ۵۸ بیرونی بجنات کی نمائندہ موجود تھیں جنہوں نے نہایت گرم جوشی سے اس تحریک پر لبیک کہا۔جو چندہ اس وقت وصول ہو چکا ہے اس سے لائبریری قائم کر دی گئی ہے اور اس وقت لائبریری میں ۴۰۲ کتب موجود ہیں اور مزید کتب منگوائی جارہی ہیں امید ہے کہ بہنیں اس لائبریری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں گی تا یہ تھا سا پودا جلد از جلد پروان چڑھ کر ایک تناور درخت بنے جس کے سایہ سے آنے والی قو میں فائدہ اُٹھا ئیں۔تقریر کے بعد دعا کے ساتھ لائبریری کا افتتاح کیا گیا۔بہت سی عورتوں نے ممبری کے لئے نام لکھوائے اور کتب حاصل کیں اے یہ لائبریری خدا کے فضل سے موجودہ دفتر لجنہ اماءاللہ میں با قاعدہ جاری ہے۔اس وقت کتب کی تعداد ۱۱۵۳ ہے۔اخبارات کے فائل اس کے علاوہ ہیں۔ابتداء میں لائبریری کی نگران امتہ احکیم صاحبہ کو مقرر کیا گیا پھر نصیرہ نزہت صاحبہ نے ایک لمبا عرصہ تک اس کا انتظام کیا۔یکم جون ۱۹۷۰ء سے لائبریری کا کام عزیزہ خورشید صاحبہ اہلیہ محمود احمد صاحب لودھی کے سپر د ہے۔لے رجسٹر کارروائی لجنہ اماءاللہ مرکزی ۱۹۵۰ء