تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 172 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 172

172 وو صدیوں سے یہ طریق چلا آ رہا ہے کہ یورپ سے عیسائی مبلغ دنیا کے ملکوں میں جاتے اور عیسائیت پھیلاتے تھے مگر اب دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مشرق سے اسلام پھیلانے کے لئے مبلغ یورپ آنا شروع ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہاں متعدد مساجد بنادی ہیں۔چنانچہ ہیگ میں بھی ایک مسجد ہے۔تبلیغ کا یہ تمام کام احمد یہ جماعت کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔ہالینڈ کے ایک اور اخبار vic NOOR DISTRET نے لکھا کہ:۔یہ پاکستانی مشنری یعنی امام مسجد ہالینڈ بہت سے پاکستانی مشنریوں میں سے ایک ہیں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک میں اسلام کی تبلیغ اور اسلام کے متعلق صحیح نظر یہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔مسلمانوں میں یہی ایک منظم جماعت ہے جس نے ایک نظام کے ماتحت تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھایا ہے۔مسجد کے ہال میں جو دنیا کا نقشہ لٹکا ہوا ہے۔اس پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح دنیا کے تمام اطراف میں جماعت احمدیہ کے مبلغ سرگرم عمل ہیں۔“ محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے اپنی ایک تقریر اسلام کا عالمگیر غلبہ جلسہ سالانہ ۱۹۶۰ء ( جو بعد میں کتابی صورت میں نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے شائع کر دی گئی) میں مسجد ہیگ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اسی طرح ہیگ (ہالینڈ) کی مسجد کا ذکر جب وہاں کے اخباروں میں شائع ہوا تو ایک کثیر الاشاعت اخبار نے مسجد کا فوٹو دے کر لکھا کہ یہ مسجد قاہرہ یا کراچی کی نہیں بلکہ ہیگ کی ہے۔اور لکھا:۔اسلام نے یورپ پر دو دفعہ حملہ کیا ایک دفعہ نویں صدی عیسوی میں جبکہ وہ سپین کے حاکم ہو گئے تھے اور دوسری دفعہ ترکوں نے سولہویں صدی عیسوی میں حملہ کیا اور وارسا تک پہنچ گئے لیکن دونوں دفعہ ہم نے اپنی قوت بازو سے مسلمانوں کا مقابلہ کر کے یورپ سے انہیں نکال دیا۔لیکن آب کے جو حملہ یورپ پر کیا گیا ہے وہ روحانی ہے اور دلوں پر حملہ ہے ظاہری حملہ نہیں ہے۔کیا عیسائیت میں روحانی طاقت ہے کہ وہ اس حملہ کا مقابلہ کر سکے؟“ جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام صفحه ۴۳ جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام صف ۴۳ ۴۴ صفحہ ۱۳ اسلام کا عالمگیر غلبہ ( با رسوم ) صفحه ۴۹