تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 166
166 دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میری مبارکباد قبول فرمائیے اور اسے جماعت احمدیہ کی اُن خواتین تک پہنچا دیجئے جن کی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجہ میں یہ مسجد معرض وجود میں آئی۔والسلام ( انچارج مبلغ ہالینڈ مشن ) 1 محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمیں خوشی ہے کہ ہماری کوشش جوا۔فروری ۱۹۵۵ء کو شروع کی گئی تھی وہ اب انجام کو پہنچ چکی ہے اور ہم آج یہاں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ اس مسجد کو جو کہ ہالینڈ میں پہلی مسجد ہے عملی طور پر اپنے مصرف میں لانے کی ابتداء کریں۔ممکن ہے اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ نہ ہو کہ اس مسجد کی تعمیر اس فنڈ سے ہوئی ہے جو ہماری احمدی بہنوں نے جمع کیا ہے۔اور اس فنڈ میں جن مستورات نے حصہ لیا ہے ان کا بیشتر حصہ غریب ہی نہیں بلکہ بہت ہی غریب ہے ایسے حالات میں ان کا یہ کارنامہ انکی بہت بڑی قربانی کا آئینہ دار ہے۔یہ خبر یقیناً ان کے لئے بڑی مسرت کا باعث ہوگی کہ ان کی یہ خواہش کہ ایک دور دراز ملک میں مسجد کی تعمیر کی جائے اب پایہ تکمیل کو پہنچ رہی ہے۔اور جس غرض کے پیشِ نظر اس خانہ خدا کو بنایا گیا تھا اسے بروئے کارلانے کا وقت آگیا ہے۔اس موقع پر بہت ہی مناسب ہوگا کہ ہم اپنی بہنوں کو انکی قربانی ، ان کے اخلاص اور ان کی شبانہ روز محنت کی قدر دانی کرتے ہوئے جو کہ انہوں نے اسلامی مقاصد کی تکمیل کے لئے انجام دی، انہیں دلی شکریہ اور مبارکباد کا پیغام بھیجیں۔بعد ازں محترم جناب چوہدری صاحب نے مسجد کے قیام کی اغراض اور مقاصد بیان فرمائے اپنے خطاب کو ختم کرتے ہوئے فرمایا:۔” ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ نہایت سادہ عمارت جو کہ ان دعاؤں اور التجاؤں کی آئینہ دار ہے جو بے شمار مخلص اور پاکیزہ دلوں سے نکلیں۔خدا کرے یہ اپنے اغراض کو پورا کر نیوالی ہو یعنی خدائے واحد کی عبادت اور اس کی تقدیس کے لئے مرکزی نقطہ ثابت ہو اور ایسا معبد بنے جو خدا کے ساتھ اتحاد پیدا کرنے کا موجب ہو۔درس و تدریس کا مرکز ہونو رو ہدایت کا منبع ہو۔اس جگہ ایسے مشورے عمل میں آئیں جو تمام بنی نوح انسان کے لئے مفید ہوں اور جو تمام مردوں اور عورتوں کو خدا کی طرف راہنمائی کا پیغام دینے والے ہوں اور اس کی طرف کھینچ کر لائیں۔خدا کرے یہ مسجدرُوحانی شفایابی کے لئے آپ ا مصباح جنوری ۱۹۵۶ء صفحه ۱۸ الفضل ۳۔اپریل ۱۹۵۶ء صفحه ۳