تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 9 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 9

9 کارکنوں کا موجود ہونا، ان کے پہنچنے سے قبل ان کے لئے رہائش ،کھانے پینے کا انتظام طبی امداد کا انتظام یہ سب سہولتیں ان کی صرف تنظیم جماعت کی وجہ سے حاصل ہوئیں۔پھر ان سب باتوں سے بڑھ کر ایک ایسے وجود کا محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے سر پر ہونا جو دن رات ان کی بہتری اور بہبودی کے لئے بے چین رہتا اور اپنی انتہائی کوشش اور بہترین استعداد میں ان کی بھلائی اور ان کی مشکلات کو کم کرنے میں صرف کر رہا ہے۔دنیوی اسباب کے علاوہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ان کے لئے بارگاہ ایزدی میں سر بسجو د ہوتا اور دعائیں کرتا ہے۔یہ سب ایسی نعمتیں ہیں جو جماعت احمدیہ کے سوا تمام ہندوستان میں کسی مسلمان کو حاصل نہیں۔اور یہ سب کچھ ہماری تنظیم کا نتیجہ ہے۔احمدی خواتین کی حفاظت کا شاندار کارنامہ: محترم خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم کے نے اپنی ذاتی واقفیت اور چشم دید حالات کی بناء پر اس کارنامے پر بڑی عمدگی کے ساتھ تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔آپ کا جامع اور قابل قدر مضمون درج ذیل کیا جاتا ہے۔قادیان کے ارد گرد کے مسلمان دیہات میں سکھوں کے مظالم جب روز بروز بڑھنے لگے۔لوٹ مار قتل وغارت اور آتشزنی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگا۔ملٹری اور پولیس ، لٹیروں اور غنڈوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنے اور مسلمانوں کی تباہی کو انتہاء تک پہنچانے میں منہمک ہو گئی اور خطرات کا سیلاب زیادہ سے زیادہ شدت کے ساتھ قادیان کے قریب سے قریب تر پہنچنے لگا تو حفاظتی اور دفاعی انتظامات کے سلسلہ میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کی طرف حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاص توجہ مبذول فرمائی اور حضور کے ارشاد کے ماتحت لجنہ اماءاللہ کی کارکن خواتین نے ایسی مستورات کی فہرست تیار کی جنہیں ضعف قلب کی تکلیف یا کوئی اور عارضہ لاحق تھا تا کہ سب سے پہلے ان کو قادیان سے باہر محفوظ مقام پر پہنچانے کی کوشش کی جائے۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پہلے پہل اس قسم کی فہرست میں نام درج کرانے سے بہت سی ایسی خواتین نے انکار کر دیا جنہیں کوئی نہ کوئی عارضہ تو لاحق تھا لیکن دل مضبوط تھے۔ان کی خواہش تھی الفضل ۱۲۵ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحه ۴ کالم ۲ کے سابق ایڈ میٹر روز نامہ الفضل قادیان