تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 157
157 ایک صحابی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیورا کھٹے کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ جھولی پھیلائے ادھر ادھر پھر رہے تھے اور عورتیں گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھیں۔اتنے میں ایک امیر گھرانے کی لڑکی نے سونے کا کڑا اپنے ہاتھ سے اُتارا اور اس کی جھولی میں ڈال دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ اس نے بڑی بھاری رقم خدا تعالی کی راہ میں دے دی ہے تو آپ نے فرمایا تیرا دوسرا ہاتھ بھی درخواست کرتا ہے کہ تو اسے دوزخ سے بچا۔اس پر اُس نے اپنا دوسرا کڑا بھی اُتار کر دے دیا۔تو عورتوں میں میں نے دیکھا ہے کہ ان میں قربانی کا مادہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔کچھ جذباتی ہونے کی وجہ سے اور کچھ یہ خدائی قانون ہے کہ روپیہ جتنا کم ہو اتنی ہی ہمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور جتنا زیادہ روپیہ ہو اتنے ہی تشکرات زیادہ ہو جاتے ہیں کہ فلاں کام بھی ہو جائے فلاں کام بھی ہو جائے۔چونکہ عورت کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اس لئے وہ قربانی میں مردوں سے آگے نکل جاتی ہے لیکن اس واقعہ کو بدلنا بھی ہمارے اختیار میں ہے بے شک واقعہ یہی ہے کہ عورتیں زیادہ قربانی کرتی ہیں۔جلسه سالا نہ ۱۹۵۱ء کے موقعہ پر بعض وجوہات کی بناء پر حضرت مصلح موعودؓ نے عورتوں کے جلسہ میں تقریر نہ فرمائی بلکہ مردانہ جلسہ گاہ سے ہی بذریعہ آلہ نشر الصوت عورتوں سے خطاب فرمایا۔۲۷۔دسمبر کو تقریر فرماتے ہوئے حضور نے عورتوں کو مسجد ہالینڈ کے چندہ کی رفتار کو تیز کرنے کی طرف توجہ دلائی۔یہ اقتباس بتاتا ہے کہ جلسہ سالانہ تک مستورات چھیالیس ہزار روپیہ چندہ جمع کر چکی تھیں:۔حضور نے فرمایا: ”مجھے زیادہ فکر عورتوں کے ذمہ جو مسجد ہالینڈ لگائی گئی ہے اس کا ہے۔اس میں ابھی بہت سی کمی باقی ہے۔میں نے جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔مردوں کے ذمہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ کام لگایا تھا مسجد ہالینڈ کا اس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اتنی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے انہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کر دیا ہے یعنی پچاس فیصدی دیا ہے۔اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مکان کو اس وقت تک ایک احمدی کے پاس گروی سمجھیں یوں تو انہوں نے قرض دیا ہوا ہے لیکن یہ بہر حال اس مکان کے لئے دیا ہوا ہے اس الفضل ۲۰۔دسمبر ۱۹۵۱ء صفحه ۵ کالم نمبر ۱-۲