تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 144
144 تقریب شادی سیده بشری صاحبہ محترمہ سیدہ بشری صاحبہ بنت حضرت میر محمد الحق صاحب اپنی قابلِ رشک والدہ محترمہ حضرت سیده ام داؤد صاحبہ کی نگرانی میں لجنہ کے کاموں میں بڑے شوق اور محنت و جانفشانی سے حصہ لیتی تھیں۔قادیان پھر رتن باغ لاہور اور پھر ربوہ میں آکر آپ لجنہ مرکزیہ کے اہم شعبوں کا کام کرتی رہیں۔آپ کی شادی ۳۰۔دسمبر ۱۹۴۹ء کو محترم میجر سید سعید احمد صاحب سے ہوئی۔نکاح حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ کے تیسرے دن ۲۸۔دسمبر کو دوسرے اجلاس میں پڑھا۔آپ ان دنوں لجنہ اماءاللہ لاہور کی جنرل سیکرٹری ہیں۔آپ کی شادی پر ممبرات لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے جو ایڈریس پیش کیا گیا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ بَاركَ اللهُ لَكَ بَارِكَ اللهُ لَكَ وَ بَارِكْ عَلَيْكُمَا وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرِهِ خطاب بتقریب شادی خانہ آبادی محترمه سیده بشری بیگم صاحبه بتاریخ ۳۰۔دسمبر ۱۹۴۹ء بمقام ربوہ ہماری واجب الاحترام بہن! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته سب سے پہلے ہم اپنے اس محسن حقیقی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے آج ہمیں آپکی خوشی کا یہ دن دکھایا جسے ہمیشہ سے شادی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔فالحمد لله ثم الحمد لله۔آج اس خوشی کے دن ہمارے دل خوشی اور رنج کے دوہرے جذبات سے پر ہیں۔خوشی اس بات کی ہے کہ آپ آج ایک نئے گھر کو آباد کرنے جارہی ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ آپ اس وقت ہم سے جد اہورہی ہیں۔پس جذبات کی فراوانی کی وجہ سے اس وقت ہم اپنی زبان کے ساتھ اپنے قلم کو بھی گنگ پاتے ہیں۔خدا تعالی کی باریک حکمتوں کے ماتحت ابتدائے آفرنیش سے دُنیا میں