تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 142
142 پورہ ضلع لائل پور ۲۰ - چک ۱۲۷۔آر بی ضلع لائل پور ۲۱۔ملتان چھاؤنی ۲۲۔پشاور ۲۳۔شاہدرہ ۲۴ قصور ۲۵۔لالیاں ضلع جھنگ ۲۶۔چنیوٹ ۲۷۔کوئٹہ ۲۸۔چونڈہ ضع سیالکوٹ ۲۹ - چک ۶۴۴ ضلع لائل پور ۳۰۔دنیا پور ضلع ملتان ۳۱ شیخو پوره ۳۲- گوجر ہ۳۳۔پسر ور۳۴۔کھاریاں ۳۵۔لائل پور ۳۶۔عارف والا ضلع منٹگمری ۳۷۔بھیرہ ۳۸ جہلم ۳۹۔سرگودہا ۴۰۔جھنگ ۴۱۔چک ۳۳ ضلع سرگود ہ ۴۲۔ادرحمہ ضلع سرگودہا ۴۳۔دوالمیال ضلع جہلم ۴۴- چک ۸۸ ضلع لائکپور ۴۵۔ننکانه ۴۶۔ملتان شہر ۴۷۔پنڈی چری ضلع شیخو پوره ۴۸۔شادیوال ضلع گجرات ۴۹ - گوجرانواله ۵۰ - بدوملہی ۵۱۔چہور مغلاں ضلع شیخو پوره ۵۲ - احمد نگر جھنگ ۵۳ - تهال ضلع گجرات ۵۴۔شورکوٹ ضلع جھنگ ۵۵۔چک ۹۶گ۔بضلع لائل پور ۵۶ گھٹیالیاں ۵۷۔سماعیلہ فیصلہ جات کی تفصیل یہ ہے:۔تجویز ایجنڈا نمبر :۔پارٹیشن کے بعد مشرقی پنجاب کی تمام اور ہندوستان کی بہت سی لجنات ختم ہوگئی ہیں۔ان لجنات کی ممبرات پاکستان میں آکر آباد ہوگئی ہیں لیکن آباد ہونے کے بعد انہوں نے انی لجنہ کو منظم نہیں کیا اور نہ ہی نی جگہ پر کوئی لجنہ قائم کی۔اس لئے ضروری ہے کہ ضلع وار لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کی جائے۔اگر یہ قدم اٹھایا تو بہت جلد تمام مغربی پنجاب اور پاکستان کے اضلاع میں لجنات قائم ہو جائیں گی۔اس کے لئے تین ماہ کا وقت مقرر کیا جائے اور ہر ضلع کی لجنہ کوشش کرے کہ ضلع کی ہر تحصیل وقصبہ اور گاؤں میں لجنہ قائم ہو جائے اس کے لئے ان کو سارے ضلع کا دورہ کرنا پڑے گا۔فیصلہ:۔سوائے ضلع جھنگ کے باقی تمام اضلاع نے وعدہ کیا۔جھنگ کے ضلع کی تنظیم کا فیصلہ مرکزی لجنہ کے سپر د ہوا۔نیز خرچ کا سوال پیش ہوا کہ کیا اس کا خرچ مرکز پر پڑے گا۔بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ یہ خرچ مرکز پر نہیں بلکہ مقامی لجنات پر ہی پڑے گا خواہ اس کے لئے ہنگامی چندہ کریں خواہ ماہوار چندہ کے نصف حصہ میں سے جو ہر لجنہ رکھتی ہے اس خرچ کو پورا کریں۔تجویز نمبر ۲:۔پچھلی شوری پر دفتر لجنہ اماءاللہ کے لئے ہیں ہزار روپیہ تحریک ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ اس تحریک پر لجنات نے اس جوش سے لبیک نہیں کہا جس طرح وہ دوسری تحریکوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔اس وقت تک صرف مندرجہ ذیل لجنات نے اس چندہ میں حصہ لیا۔اس تحریک کو کامیاب بنایا جائے:۔