تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 140
140 چک نمبر ۳۷ ضلع سرگودھا۔ملتان چھاؤنی۔اور حمہ۔کھاریاں۔ننکانہ صاحب۔جڑانوالہ۔لودھراں۔چک ۶۴۴ چکوال۔بھیرہ۔حیدرآباد سندھ۔لاٹھیا نوالہ گولیکی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی لجنات نے فراہمی سٹور میں حصہ لیا۔حضور کا ارشاد جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء کے موقع پر حضور نے عورتوں کو چند قابلِ توجہ امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سادگی اور خصوصاً صفائی کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ میں لجنہ اماءاللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقار عمل کے ذریعہ یہ بات عورتوں کو سکھائے تا کہ وہ غیر قوموں میں سے آنے والوں کے لئے نیک نمونہ پیش کر سکیں اے رہائش کا انتظام: عورتوں کی رہائش کا انتظام علیحدہ کیا گیا تھا چنانچہ چار ہزار عورتوں کو ایک صد خیموں میں نصرت گرلز ہائی سکول اور اس کے توسیع شدہ احاطے میں ٹہرایا گیا۔خیموں کے گرد بیر کیں تعمیر کر کے پردے کا انتظام کر دیا گیا تھا۔یہاں قادیان کی طرح نرم و گرم کسیر تو دستیاب نہ ہو سکی لیکن بچھانے کے لئے دب کافی تعداد میں مہیا کر دی گئی جس سے مہمانوں نے کافی آرام اُٹھایا ہے جلسہ سالانہ کے اختتام پر کارکنات سے حضور کا خطاب اور الوداعی دُعا: جلسہ کے اختتام پر ۲۸۔دسمبر کی رات کو بوقت عشاء دعا ہوئی۔دعا کروانے کی درخواست حضرت امیر المومنین کی خدمت میں کی گئی جو حضور نے از راہ نوازش منظور فرمائی اور دعا سے قبل حضور نے کارکنات کو مخاطب کر کے قیمتی نصیحت فرمائی۔آپ نے فرمایا:۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے مہمانوں نے بھی اس دفعہ کام میں حصہ لیا ہے۔باہر سے آنے والی مہمانوں کو چاہیئے کہ وہ ضرور کام میں حصہ لیں۔ایمان کا تقاضا ہے کہ جب ثواب کا موقع ملے تو ضائع نہ کیا جائے۔صحابہ ہمیشہ ثواب کے موقع کے شائق رہتے تھے۔جنازہ ہو چکنے کے بعد عموماً دوست رہ جاتے ہیں باقی سب لوگ چلے جاتے ہیں۔ایک دفعہ جنازہ کے موقع پر ایک صحابی نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی کہ جنازہ پڑھنے والے کو ا الفضل ۲۰۔جنوری ۱۹۵۰ ء صفحه ۵ الفضل ۱۳۔جنوری ۱۹۵۰ء صفهیم