تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 139 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 139

139 توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندر اسلامی اخلاق اور اطوار پیدا کرو۔دینی تعلیم سیکھنے سے یہ اخلاق و اطوار پیدا ہو سکتے ہیں۔تم اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی اور تغیر پیدا کرو اور باہر سے ہزاروں آنے والوں کو سکھانے کے لئے خود سیکھ کر اپنے آپ کو تیار کرو۔لجنہ کو اب ہوشیار ہو جانا چاہیئے۔اسلام اور گھر کی لڑائی ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ تم تمہاری مائیں، بہنیں ،لڑکیاں ، مرد اور بچے پوری طرح اس میں شامل نہ ہوں۔دشمن سمجھتا ہے کہ میرے حملے کے لئے ایک عظیم الشان دروازہ کھلا ہے وہ دروازہ عورت ہے جسے گھر کی دہلیز کہا جاتا ہے۔لجنہ کو چاہیئے کہ وہ عورتوں میں بیداری پیدا کرے قربانی کی رُوح جماعت میں موجود ہے صرف عورتوں کوان کی ذمہ داری سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔جلسہ کے انتظامات : جلسہ سالانہ دسمبر ۱۹۴۹ء کے موقع پر پہلی مرتبہ مستورات کے لئے لنگر خانہ کا علیحدہ انتظام کیا گیا جس میں نمایاں کامیابی ہوئی۔مجموعی طور پر کام میں بہت سہولت رہی۔مستورات نے اپنی لیاقت حسنِ کارکردگی اور تنظیمی صلاحیت کا نہایت خوشکن مظاہرہ کر کے ثابت کر دکھایا کہ لجنہ اماءاللہ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرنے والی مستورات نظم و ضبط میں اعلیٰ معیار پر پہنچ چکی ہیں۔عورتوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی۔اگر چہ لنگر خانہ کا انتظام مردوں کے ہاتھ میں تھا لیکن مستورات منتظمین کی زیر ہدایت ہی اس کے جملہ انتظامات پایہ تکمیل کو پہنچے تھے۔وہ اپنی ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرواتیں اور پھر اسے مہمان مستورات میں ایک خاص انتظام کے ماتحت تقسیم کراتی تھیں۔مستورات کے لئے ایک علیحدہ لنگر خانہ کا انتظام ایک نیا تجربہ تھا جو بفضلہ تعالی خاطر خواہ طور پر کامیاب ثابت ہوا ہے اِس سال بھی سٹور جلسہ سالانہ خواتین کے لئے سامان جمع کرنے کی تحریک کی گئی چنانچہ دو تھان کھڈ ردستر خوانوں کے لئے لجنہ کوئٹہ نے۔کراچی نے ۲۴ بالٹیاں ، لالٹینیں اور دستر خوان۔لجنہ لاہور نے ۶۴ بالٹیاں اور ۵۲ چمچے کھانا نکالنے کے بھجوائے۔ان کے علاوہ چک نمبر ۱۲۷ ساہیوال۔لالیاں۔سیالکوٹ۔بہلولپورضلع سیالکوٹ قصور۔راولپنڈی۔چنیوٹ۔لائل پور۔دوالمیال۔چک ۹۶ گ۔ب شورکوٹ۔شیخ پور ضلع گجرات۔چک نمبر ہ ضلع سرگودہا۔حافظ آباد۔جھنگ۔چک نمبر ۶۵ ۵ ضلع لائلپور لے رجسٹر کا روائی لجنہ اماءاللہ ۱۹۴۹ء ے رجسٹر قیامگاہ جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء