تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 137 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 137

137 دسمبر ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ کی مختصر روداد: یہ جلسہ مورخہ ۲۶-۲۷ - ۲۸۔دسمبر ۱۹۴۹ء کور بوہ میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لا کر خطاب فرمایا۔جلسہ میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے تحریک وقف زندگی“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔ان کے علاوہ عاجزہ امتہ اللطیف نے حصول قادیان کے لئے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہیئے محترمہ جمیلہ عرفانی صاحبہ نے "پردہ"۔حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ نے أَيْنَمَا تَكُونُوا يَا تِي بِكُمُ اللهُ جَمِيعًا محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ نے مصلح موعود کی پیشگوئی اور جماعت احمدیہ کی ترقی، محترمہ امتہ اللہ خورشید صاحبہ نے بعثت محمدیہ کا دوسرا دور اور محترمہ امتہ السلام صاحبہ نے اسلامی تمدن کے موضوع پر تقاریر کیں۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے آخری دن ” تنظیم لجنہ اماءاللہ کے موضوع پر خطاب فرمایا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تقریر: ۲۷۔دسمبر کے پہلے اجلاس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشریف لا کر مستورات سے خطاب فرمایا۔حضور نے اپنی تقریر میں فرمایا:۔آجکل ہمارے ملک میں پردے کے متعلق بحثیں ہورہی ہیں۔قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ عورت کے لئے پردہ ضروری ہے اور پردہ میں عورت کا چہرہ بھی شامل ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام نے کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں کے لئے یہ رائے دی کہ آنکھیں اور ناک کا حصہ کھلا رکھ کر باقی سر چہرہ اور ٹھوڑی وغیرہ کا پردہ کریں۔اسی طرح پنڈلیوں تک اپنا کپڑا اونچا کر کے کام کر سکتی ہیں کیونکہ وہ عورتیں اس کے بغیر کام نہیں کرسکتی تھیں۔قرآن کریم کی آیت الا ما ظَهَرَ مِنْهَا سے بھی یہی پتہ چلتا ہے تو مغرب زدہ لوگوں میں آکر یہ کہنا کہ چہرہ کا پردہ نہیں غلط ہے۔پردے کے متعلق موجودہ زمانے کی نسبت رسول کریم ﷺ اور صحابہ کے زمانہ میں زیادہ آزادی نظر آتی ہے۔اُس زمانہ میں عورتوں سے لوگ علم سیکھتے تھے۔مسائل کے متعلق جا کر دریافت کرتے تھے۔پھر اُس زمانہ میں موجودہ بُرقعہ نہ تھا بلکہ چادر میں ہوتی تھیں۔بُرقعہ تو