تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 127
127 ۱۶۔محترمہ مریم صدیقہ صاحبہ اہلیہ منصور احمد صاحب ربوہ ۱۷۔محترمہ ظہور ا قبال صاحبہ بنت قاضی ضیاء اللہ صاحب حافظ آباد ۱۸- محتر مہ رحمت فرحت صاحبہ بنت مولوی شمس الدین صاحب مرحوم چونڈہ ۱۹۔محترمہ امتہ الباری صاحبہ بنت مولوی علی احمد صاحب منٹگمری ۲۰ محتر مه حمیده خانم صاحبہ سیکرٹری لجنہ اماءاللہ راولپنڈی ۲۱ محترمہ نعمت بی بی صاحبہ بنت چوہدری محمد ابراہیم صاحب سماعیلہ ۲۲۔محتر م طالعت صاحبہ بنت نبی احمد صاحب ربوه حضرت خلیفہ اسیح الثانی کالجنہ کوئٹہ سے خطاب: اس سال موسم گرما میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ پہلے سندھ اور پھر وہاں سے کوئٹہ تشریف لے گئے۔لجنہ اماءاللہ کوئٹہ کا ایک اہم اجلاس ۱۸ اگست کو پارک ہاؤس میں (جہاں حضور کا قیام تھا) منعقد ہوا جس میں احمدی خواتین کے علاوہ کئی غیر احمدی معزز خواتین نے بھی شرکت کی۔اس میں حضور نے بھی تقریر فرمائی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔اس میں حضور نے عورتوں کو وقت کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔وقت بھی خدا تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ہمارے ملک کا پرانا خیال یہی تھا کہ وقت کی پابندی نہ کرنا بڑے لوگوں کا کام ہے۔چنانچہ جتنے بڑے لوگ ہوتے تھے اتنا ہی زیادہ وہ اپنے آپ کو وقت کی پابندی سے معذور سمجھتے تھے لیکن آب دُنیا کا نظریہ بدل چکا ہے۔دُنیا نے تجربہ سے معلوم کر لیا ہے کہ کسی کا بڑا ہونا اسے وقت کی پابندی سے آزاد نہیں کر دیتا بلکہ کسی شخص کے بڑا ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ وقت کی زیادہ پابندی کرے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اوقات کی پابندی کیا کرتے تھے۔آج مجھے یہ بات معلوم کر کے تعجب ہوا کہ اجلاس کا وقت پانچ بجے مقرر تھا حالانکہ کوئٹہ کے حالات کے مطابق عصر کی نما ز سوا پانچ بجے ہوتی ہے اس لئے اجلاس کا وقت کسی صورت میں چھ بجے سے پہلے مقرر نہیں ہونا چاہیئے تھا۔آنے والی عورتوں نے بھی اپنی عادت کے مطابق اجلاس میں آنے کے لئے کچھ وقت لیا ہے۔میں نے پانچ بجے دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ ابھی بہت کم عورتیں آئی ہیں۔یہ طریق غلط ہے۔اس سے کام کرنے والوں کا بہت نقصان ہوتا