تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 109 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 109

109 بیٹا ہونے کی امید نہیں تھی اس نے کہا جب خدا اور اسلام کے نام پر ایک آواز اٹھائی جارہی ہے تو پھر میرا کوئی بیٹا ہے یا نہ رہے مجھے اس آواز کا جواب دینا چاہیئے۔شدید جذبات مقابل میں ویسے ہی جذبات پیدا کر دیا کرتے ہیں۔جب اُس نے یہ بات کہی تو کئی بزدل جو اپنے آپ کو پہلے بچارہے تھے انہوں نے بھی اپنے ارادوں کو پیش کرنا شروع کر دیا۔اور جب یہ اطلاع میرے پاس پہنچی اور خط میں میں نے یہ واقعہ پڑھا تو پیشتر اس کے کہ میں اس خط کو بند کرتا میں نے خدا تعالی سے دُعا کرتے ہوئے کہا:۔قربانی کر نیوالی احمدی عورت کے لئے دُعا: ”اے میرے رب ! یہ بیوہ عورت اپنے اکلوتے بیٹے کو تیرے دین کی خدمت کے لئے یا مسلمانوں کے ملک کی حفاظت کے لئے پیش کر رہی ہے۔اے میرے رب ! اِس بیوہ عورت سے زیادہ قربانی کرنا میرا فرض ہے میں بھی تجھ کو تیرے جلال کا واسطہ دیکر تجھ سے یہ دُعا کرتا ہوں کہ اگر انسانی قربانی کی ہی ضرورت ہو تو اے میرے رب! اس کا بیٹا نہیں بلکہ میرا بیٹا مارا جائے۔“ اسی طرح ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ایک اور عورت کہ وہ زمیندار طبقے میں سے نہیں تھی بلکہ ان لوگوں میں سے تھی جنہیں زمیندار حقارت کے ساتھ کہیں “ کہا کرتے ہیں۔اس نے بھی اپنی قربانی کا نہایت شاندار نمونہ دکھایا۔اس کے دو بیٹے اور دو پوتے تھے۔جب ہمارے آدمی گئے اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی حفاظت کے لئے فوج میں بھرتی ہونا چاہیئے تم بھی اپنی اولاد میں سے کسی کو پیش کرو تا کہ اسے فوج میں بھجوایا جائے تو اس وقت باہر کھڑی کام کر رہی تھی اس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے چاروں لڑکوں اور پوتوں کو آواز دی اور ہمارے متبلغ سے کہا یہ میرے دولڑ کے اور دو پوتے ہیں ان چاروں کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔پھر اس نے اپنے لڑکوں اور پوتوں سے کہا:۔دیکھو میں گھر میں نہیں گھوں گی جب تک تم یہاں سے چلے نہ جاؤ۔“ جب ہمارے آدمی نے کہا کہ اس وقت چاروں کی ضرورت نہیں بلکہ صرف ایک نو جوان چاہیئے تو اُس نے کہا میں تو چاروں بھجوانے کے لئے تیار ہوں۔آخر اصرار کر کے اُسنے کہا دو تو لے جاؤ۔چنانچہ ایک کی بجائے اس نے دونو جوان پیش کئے اور وہ خوشی خوشی چلے گئے۔یہ وہ روح تھی جو حقیقی روح ہوتی ہے اور جس کے ذریعہ سے دُنیا میں تو میں بڑھا کرتی ہیں۔میں نے تم کو وقت پر ہوشیار کر دیا ہے خواہ اس وقت تم میری بات کو سمجھو یا نہ سمجھو۔جس وقت