تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 108 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 108

108 اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو عزت دینے کے لئے ایک اسلامی علاقہ (پاکستان) قائم کر دیا۔۔۔لیکن ہر نعمت کے لئے کچھ قربانی دینی پڑتی ہے۔۔۔جب ملک ہمارے پاس آچکا ہے تو اس کو بچانا ہمارا کام ہے۔اب انگریزوں کے خون سے اس ملک کو بچایا نہیں جاسکتا بلکہ خود مسلمانوں کے خون سے اس ملک کو بچایا جائیگا۔۔میں نے بار بار جماعت احمدیہ کے افراد کو توجہ دلائی کہ وہ اُٹھیں اور ملک کی خدمت کریں۔یہ پہلا قدم ہے جو ایک اسلامی علاقہ کی حفاظت کے لئے اُٹھایا گیا ہے۔اس کے علاوہ وہ وقت بھی آئے گا جب خالص اسلام کی حفاظت کے لئے جنگیں کرنی پڑیں گی۔لیکن جو شخص پہلا قدم اُٹھانے کے لئے تیار نہ ہو اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ دوسرا قدم اُٹھانے کے لئے تیار ہو جائیگا۔۔۔لیکن میں بتاتا ہوں کہ تم میں سے بعض عورتیں ایسی ہیں جنہوں نے نہایت ہی اعلیٰ درجے کا نمونہ دکھایا ہے۔اگر وہ آن پڑھ، جاہل اور غریب عورتیں ایسا اچھا نمونہ دکھا سکتی ہیں تو آسودہ حال اور پڑھی لکھی عورتیں کیوں ایسا نمونہ نہیں دکھا سکتیں۔ایک جگہ رنگروٹ بھرتی کرنے لئے ہمارے آدی گئے انہوں نے جلسہ کیا اور تحریک کی کہ پاکستانی فوج میں شامل ہونے کے لئے لوگ اپنے نام لکھوائیں۔۔۔جن قوموں میں لڑائی کی عادت نہیں ہوتی اس کے افراد ایسے موقع پر عموماً اپنے نام لکھوانے سے ہچکچاتے ہیں۔چنانچہ اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا تحریک کی گئی کہ لوگ اپنے نام لکھوائیں مگر چاروں طرف خاموشی طاری رہی اور کوئی شخص اپنا نام لکھوانے کے لئے نہ اُٹھا تب ایک بیوہ عورت جس کا ایک ہی بیٹا تھا اور جو پڑھی ہوئی بھی نہیں تھی اس نے جب دیکھا کہ بار بار احمدی مبلغ نے کھڑے ہو کر تحریک کی ہے کہ لوگ اپنے نام لکھوائیں مگر وہ ہچکچانے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھتے تو وہ عورتوں کی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اس نے اپنے لڑکے کو آواز دے کر کہا:۔او فلا نے تو بولتا کیوں نہیں تو نے سنا نہیں کہ خلیفہ وقت کی طرف سے تمہیں جنگ کے لئے 66 بلا یا جا رہا ہے۔اس پر وہ فوراً اُٹھا اور اس نے اپنا نام جنگ پر جانے کے لئے پیش کر دیا تب اس کو دیکھ کر اور لوگوں کے دلوں میں بھی جوش پیدا ہوا اور انہوں نے بھی اپنے نام لکھوانے شروع کر دئے۔وہ عورت زمیندار طبقہ میں سے نہیں تھی بلکہ غیر زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتی تھی جس کے متعلق زمیندار بڑی حقارت سے یہ کہا کرتے ہیں کہ وہ لڑنا نہیں جانتے مگر اسے غیر زمیندار ہوکر اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا اور ایسی حالت میں محسوس کیا جبکہ وہ بیوہ تھی اور اس کا صرف ایک ہی بیٹا تھا اور آئندہ اسے کوئی