تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 106
106 اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کو اپنی خاص جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے اس حُسنِ سلوک کا اجر ان کے درجات میں غیر معمولی بلندی کے ذریعے عطا فرماۓ۔آمین اللهم آمین۔ربوہ میں پہلا جلسہ سالانہ منعقدہ اپریل ۱۹۴۹ء تقسیم ملک اور قادیان سے ہجرت کی وجہ سے جماعت کے لئے جو ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی تھی اس کی وجہ سے دسمبر ۱۹۴۸ء میں جماعت احمدیہ کا مرکزی جلسہ سالانہ منعقد نہ ہو سکا تھا اس کی بجائے ۱۵-۱۶۔۱۷۔اپریل ۱۹۴۹ء کو جماعت کے نئے مرکز ربوہ میں جلسہ منعقد ہوا۔اس موقعہ پر احمدی مستورات کا جلسہ سالا نہ بھی ہوا۔ربوہ کی واد کی بے آب و گیاہ میں مستورات کا بھی یہ پہلا جلسہ سالا نہ تھا۔تمام کی تمام عورتیں مہمان بھی تھیں اور میزبان بھی۔اس لئے الفضل میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ جن بہنوں نے کبھی قادیان میں جلسہ سالانہ پر کام کیا ہو وہ ربوہ پہنچتے ہی ناظمہ جلسہ سالانہ کے دفتر میں اپنے نام لکھوا دیں لیے ان کے علاوہ لاہور کی بہت سی لڑکیوں اور عورتوں نے بھی اپنے نام پیش کئے اور ربوہ میں جلسہ سے دودن پہلے پہنچ کر نقشہ اور پروگرام کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا۔خدا کے فضل سے باوجود نئی جگہ ہونے کے بہت اچھا انتظام رہا۔لجنہ لاہور کی طرف سے بڑی تعداد میں بالٹیاں ، چمچے، اور لالٹینیں مہیا کی گئیں جن کی وجہ سے بہت سہولت رہی۔احمد نگر اور چنیوٹ کی مستورات نے بھی خدمت میں خاص حصہ لیا۔حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہر احمدی تین تین سیر آٹا یا گندم جلسہ پر اپنے ہمراہ لائے۔یہ مقدار اس کے اپنے لئے اور ایک مہمان کے لئے کافی ہوگی۔چنانچہ جہاں کثرت سے مرداناج لائے وہاں بہت سی عورتیں بھی اناج لے کر آئیں بلکہ بعد میں بھی کئی سال تک جلسہ سالانہ پر لاتی رہیں۔۱۹۶۶ء میں جب اناج کی قلت تھی تو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر بھی عورتیں غلہ ہمراہ لے کر آئیں ہے ل الفضل ۱۲۔اپریل ۱۹۴۹ء صفہ ی۲ الفضل ۶۔اپریل ۱۹۴۹ صفحہ ۵