تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 105
105 مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری - ۱۰- محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم قر افضل صاحب۔در ویشان قادیان کے اہل و عیال سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا پُر شفقت سلوک: دارالخواتین کے قیام اور اس میں درویشان قادیان کے اہل وعیال کی رہائش کے ضمن میں حضرت سیدی صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نوراللہ مرقدہ کے غیر معمولی پر شفقت اور ہمدردانہ سلوک کا تذکرہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو آپ درویشوں کے اہل وعیال سے فرماتے تھے۔مردوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے درویشوں کی بیوی بچوں کے لئے ابتدائی ایام میں بالخصوص بہت سے ایسے مسائل پیدا ہوتے تھے جنہیں حل کرنے کے لئے غیر معمولی فراست کے علاوہ جذبات و احساسات کا خاص طور پر خیال اور لحاظ رکھنے کی بھی بہت ضرورت تھی۔اس ضرورت کو حضور کی عمومی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت حضرت سیدی مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے بڑی ہی عمدگی اور احسن طریق سے پورا فرمایا۔یوں تو سب کے ساتھ ہی آپ شفقت کا سلوک فرماتے تھے لیکن درویشانِ قادیان کے متعلقین کے لئے تو آپ کے سینہ میں اس قدر شفقت و ہمدردی کے جذبات موجزن تھے کہ اپنی سخت بیماری اور شدید پریشانی یا مصروفیت کی حالت میں بھی اگر ان میں سے کوئی آجا تا تو آپ فوراً اس کو بلا لیتے ، اس کی باتوں کو غور سے سُنتے اور اس کی شکایت وضرورت کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔آپ درویشوں کے اہل وعیال کے جملہ حالات سے پوری طرح باخبر ہوتے تھے۔ان کے شادی بیاہ اور تعلیم کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ان کے بچوں سے بہت پیار فرماتے۔بلکہ اگر کسی درویش کے اہل و عیال کچھ عرصہ آپ سے نہ ملتے یا ان کا کوئی خط قادیان سے آتا تو بعض اوقات بذات خود ان کے گھر تشریف لے جا کر انہیں خط دیتے اور ان کی خیریت دریافت فرمایا کرتے تھے۔آپ سمجھتے تھے کہ میں ان کے لئے بمنزلہ باپ کے ہوں۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے ایک خط میں خود بھی یہ لکھا کہ قادیان کی انجمن اور میں جو اُن کا ناظر ہوں درویشوں کے لئے گویا باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ا الفضل ۱۳۔ستمبر ۱۹۶۳ء