تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 547 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 547

547 اجتماع منعقد کیا جایا کرے۔فیصلہ کیا گیا کہ ۱۹۵۶ء میں سالانہ امتحانوں کے بعد اجتماع ہو لیکن امتحانات کے طویل سلسلے کی وجہ سے یہ اجتماع ۲۵ / اکتوبر کو منعقد ہوسکا۔اجتماع کی تیاری اور انتظامی امور کی سرانجام دہی میں محترمہ سیدہ نصیرہ صاحبہ بیگم مرزا عزیز احمد صاحب محترمہ بیگم صاحبہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، محترمہ بیگم صاحبہ مرزا حفیظ احمد صاحب، محتر مہ امۃ الرشید شوکت صاحبه، محترمه استانی حمیدہ صابرہ صاحبہ نے تعاون کیا اور مفید مشورے دیئے۔۲۳ اکتوبر کو اجتماع کا باقاعدہ ریہرسل ہوا۔ناصرات کے لئے محلہ وار بیٹھنے کی جگہ مقرر کی گئی۔سب بچیوں کے لئے سفید یونیفارم اور دوپٹوں کے مختلف رنگ مقرر کئے گئے اور ہر حلقے کا الگ الگ جھنڈا بنوایا گیا۔۲۵ اکتو بر کو صبح آٹھ بجے اجتماع شروع ہوا جو شام کے پانچ بجے تک جاری رہا۔تقریباً تین صد لڑکیاں شامل ہوئیں جو یو نیفارم اور دو بیٹوں میں ملبوس اپنے اپنے ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور جاذب نظر جھنڈوں کے ساتھ محلہ وار مقام اجتماع میں پہنچیں۔تلاوت قرآن کریم ونظم کے بعد پہلے تلاوت اور پھر تقاریر کے مقابلے کرائے گئے جن میں بچیوں نے بڑے شوق سے حصہ لیا۔پھر محلہ جات کے عہدیداروں نے اپنے اپنے محلوں کی رپورٹیں پڑھ کر سنائیں۔دو پہر کا کھانا و ہیں پیش کیا گیا۔اس کے لئے تین دیگیں پلاؤ کی پکوائی گئی تھیں۔کھانے کی تقسیم کا انتظام بہت اچھا رہا۔نماز ظہر وعصر کے بعد کھیلوں کے مقابلے ہوئے جس کے بعد اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔اس میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے ناصرات سے مؤثر پیرا یہ میں خطاب کرتے ہوئے ان کے اجتماع اور اس کے انتظامات پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔آپ نے اپنے خطاب میں سادہ اور دلکش اور عام فہم انداز میں بچیوں پر اطاعت اور فرماں برداری کی اہمیت واضح فرمائی اور بتایا کہ بچیوں کی آئندہ ترقی اور بہتری کا انحصار اس امر پر ہے کہ وہ ماں باپ، استادوں، عہد یداروں اور سب بڑوں اور بزرگوں کا کہا مانیں اور اطاعت کی روح پیدا کریں۔اس کے بعد آپ نے اجتماع کے موقع پر ہونے والے مختلف مقابلوں اور کھیلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی لڑکیوں کو اپنے دست شفقت سے انعامات عطا فرمائے اور پھر اختتامی دعا ہوئی۔اس طرح ناصرات الاحمدیہ کا یہ پہلا اجتماع بڑی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔