تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 493
493 اور منگلہ کے لوگ نئے احمدی ہوئے ہیں۔وہاں کی ایک عورت یہاں آیا کرتی ہے۔وہ جب بیعت کرنے کے لئے ربوہ آئی تو مہمان خانہ میں ٹھہری۔رات کو اس کی بیٹی بھی آگئی۔اس نے کہا۔اماں تو نے مجھے کس قبیلہ میں بیاہ دیا ہے وہ تو احمدیت کی بڑی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔میں بہتیری تبلیغ کرتی ہوں وہ سنتے ہی نہیں۔اس کی ماں کہنے لگی۔بیٹی تو میری جگہ آجا اور اپنے باپ اور بھائیوں کا کھانا پکا۔میں تیرے سسرال جاتی ہوں اور میں دیکھتی ہوں کہ وہ کس طرح مخالفت کرتے ہیں اور احمدیت کی تبلیغ نہیں سنتے۔تو اب ہماری عورتیں بھی ایسی ہیں کہ جو کہتی ہیں کہ ہم دیکھیں گے کہ لوگ ہماری تبلیغ کیسے نہیں سنتے۔اس عورت کو پچھلے سال لجنہ اماءاللہ نے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کیا۔نئی احمدی ہے اور جوش زیادہ ہے جوش میں آکر اس نے اردو میں تقریر شروع کر دی۔تقریر اپنے لحاظ سے سے تو بہت عمدہ تھی لیکن چونکہ اردو نہیں جانتی تھی اس لئے لجنہ اماء اللہ کو اس سے التجا کرنی پڑی کہ بی بی تو پنجابی میں ہی تقریر کر ہم پنجابی سمجھ لیں گے۔اس سال وہ چند ماہ قبل ربوہ آئی تو کالج چلی گئی۔وہاں کوئی جلسہ ہور ہا تھا اور ایک بی۔اے کی سٹوڈنٹ لڑکی تقریر کر رہی تھی۔وہ لڑکی کچھ ہچکچا رہی تھی۔یہ عورت اسے کہنے لگی۔بیٹی تو ڈرتی کیوں ہے دلیری سے تقریر کر تو جس قوم کو خدا تعالیٰ نے ایسی بہادر عورتیں دی ہوئی ہیں اس کے مردوں کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔مجھے یاد ہے ۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران میں ضلع سیالکوٹ کی ایک عورت پیدل ربوہ پہنچی اور اس نے ہمیں بتایا کہ ہمارا گاؤں دوسرے علاقہ سے کٹ چکا ہے اور مخالفوں نے ہمارا پانی بند کر دیا ہے۔اگر ہم پانی لینے جاتے ہیں تو وہ ہمیں مارتے ہیں۔اس وقت ایک فوجی افسر یہاں رخصت پر آیا ہوا تھا۔اس کو میں نے ایک مقامی دوست کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ وہاں جا کر احمدیوں کی امداد کرے۔اب دیکھو یہ کتنی بڑی ہمت ہے کہ جہاں مرد قدم نہ رکھ سکے وہاں ایک عورت نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اس وقت مرد اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے تھے۔مگر وہ عورت پیدل سمبڑیال کی طرف گئی۔وہاں سے گوجرانوالہ کی طرف آگئی اور پھر گوجرانوالہ سے کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچی اور ہمیں جماعت کے حالات سے آگاہ کیا اور ہم نے یہاں سے ان کو امداد کے لئے آدمی بھجوائے۔تو خدا تعالیٰ