تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 484 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 484

484 حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر بر موقعہ سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ ۱۹۵۷ء حضور رضی اللہ عنہ نے احمدی مستورات سے خطاب کرتے ہوئے جو نہایت ایمان افروز تقریر فرمائی۔اس کا ایک حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔الله۔۔۔۔۔۔انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شائنک هوا لابتر میں ایک نہایت زبر دست پیشگوئی بیان کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ علی کے دشمن کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں نرینہ اولا د کوئی نہیں اس لئے آپ کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔مگر یہ جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد نرینہ کو محمد رسول اللہ ہے کے قدموں میں ڈال دے گا اور وہ ہمیشہ آپ کے نام بلند کرنے کا موجب رہے گی۔گویا اس سورۃ میں اس بات کی پیشگوئی کی گئی تھی کہ آئندہ محمد رسول ﷺ کو روحانی اولا د دی جائے گی۔تم بھی انا اعطینک الکوثر کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔چنانچہ اس وقت جو تم یہاں بیٹھی ہو تم بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہو اور تم انا اعطینک الکوثر کا نظارہ دیکھ رہی ہو۔اس ضلع کو دیکھ لو۔جب ہم یہاں آئے تو وہاں صرف چار پانچ آدمی تھے۔لیکن اب چنڈ بھروانہ اور منگلہ وغیرہ میں دو ہزار کے قریب احمدی ہو گئے ہیں۔اٹھارہ انیس ہزار احمدی لائل پور کے ضلع میں ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب احمدی سیالکوٹ میں ہیں۔جب ۱۸۹۱ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان میں را جلسہ کیا۔اس وقت صرف ۷۵ آدمی شامل ہوئے تھے اور اس پر آپ بڑے خوش تھے۔لیکن جب ۱۸۹۲ء میں سالانہ جلسہ ہوا تو اس پر ۳۲۷ را فراد آئے۔گویا ایک سال کے عرصہ میں جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی تعداد ۷۵ سے بڑھ کر تین سوستائیس ہوگئی۔اسی طرح ہر سال ہماری جماعت بڑھتی چلی گئی۔اب دیکھ لو جھنگ اور سرگودھا کے اضلاع میں ہی پانچ ، چھ ہزار احمدی بستا ہے اور یہ تعداد پہلی پہلاج تعداد سے بہت زیادہ ہے گویا اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ہمیں کثرت عطا فرمارہا ہے جس کی طرف انا اعطینک الکوثر میں اشارہ کیا گیا ہے۔بیشک کوثر کے ایک معنی ایسے بیٹے کے بھی ہیں جو اپنے اندر خیر کثیر رکھتا ہو۔اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔لیکن کوثر سے مراد جماعت کی کثرت بھی ہے اور انا اعطینک الکوثر کے معنی یہ ہے کہ تیری جماعت میں مخلص اور تبلیغ کا شوق رکھنے والے لوگ کثرت سے پیدا کئے جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو! احمدیت نے کیسے نامساعد حالات میں سے گذر کر ترقی کی