تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 36
36 مختلف مقامات پر ہجرت کے بعد لجنات کی از سر نو تنظیم : لجنہ اماءاللہ لاہور : لا ہور شہر میں احمدی مستورات کی سرگرمیاں تو مرکزی لجنہ اماءاللہ کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگئی تھیں۔محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ اہلیہ کریم بخش صاحب پہلوان ( جو عرف عام میں اماں پہلوانی کے نام سے مشہور تھیں ) اور محترمہ اہلیہ صاحبہ محمد الحق صاحب نے ۱۹۲۳ء میں ہی اس تحریک کو چلانے کی کوشش شروع کر دی تھی لیکن لجنہ اماءاللہ کا با قاعدہ قیام لاہور میں ۱۹۲۵ء میں ہوا لے اور گیارہ سال کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خواتین جماعت احمد یہ اتنی ترقی کر چکی تھیں کہ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم کی خاطر لا ہور شہر کو پانچ حلقوں میں تقسیم کر کے ہر حلقہ کی علیحدہ عہدیدار مقررکی گئیں حتی کہ قیام پاکستان کے وقت لاہور میں دس حلقہ جات قائم ہو چکے تھے اور ہر حلقہ میں صدر وسیکرٹری کا تقرر با قاعدہ انتخاب سے ہوتا تھا اور ہر پانچ حلقوں پر ایک نگران تھی۔۱۹۴۷ء میں حلقہ جات اور کارکنات کے نام درج ذیل ہیں:۔ا۔حلقہ دہلی دروازہ صدر محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ اہلیہ میاں عبدالعزیز صاحب مغل سیکرٹری محترمہ رشیدہ صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر شریف احمد صاحب ۲۔حلقہ چابکسواراں صدر محترمه سردار بیگم صاحبہ اہلیہ مرز اعطاء اللہ صاحب ومحترمہ امتہ اللہ مغل صاحبہ اہلیہ احمد الدین صاحب سیکرٹری محترمہ زینب حسن صاحبه و محتر مہ صالحه نسرین صاحبہ بنت مرزا عطا اللہ صاحب۔حلقہ بھائی دروازہ صدر محترمہ بیگم النساء صاحبہ اہلیہ مرزامحمد اسمعیل صاحب سیکرٹری محترمہ بختاور صاحبہ وسلیمہ بیگم صاحبہ بنت میاں معراج الدین صاحب مرحوم ۴۔حلقہ اسلامیہ پارک صدر محترمه سردار بیگم صاحبہ اہلیہ چو ہدری عبدالرحیم صاحب سیکرٹری محترمہ اہلیہ صاحبہ مرزا محمد صفدر صاحب تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اوّل صفحہ ۱۷۲