تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 365
365 سیلاب زدگان کی مدد:۔۔امسال پہلے مشرقی پاکستان میں اور پھر مغربی پاکستان میں سیلاب نے بہت تباہی مچائی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بجنات اماء اللہ کو بھی اس موقع پر سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی تحریک فرمائی تو محترمہ جنرل سکرٹری صاحبہ لجنہ مرکزیہ نے تمام لجنات کو اعلان کے ذریعہ آگاہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اپنے مقام پر مستورات سے چندہ جمع کر کے بھجوائیں۔یہ چندہ فوری طور پر ایک ہفتہ کے اندراندر جمع ہو جانا چاہیے۔کوشش کریں کہ ہر عورت اس چندہ میں شامل ہو۔وعدے کا وقت نہیں ہے جو پاس ہے وہ دے دیں تاکہ مستحقین کی بروقت امداد کی جاسکے۔لجنات نے مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے ۶۳۶ روپے جمع کر کے فوری طور پر بھجوادیے۔سے لجنہ ڈھاکہ کی خدمات:۔اس موقعہ پر لجنہ اماءاللہ ڈھا کہ نے خاص طور پر امدادی خدمات میں حصہ لیا۔بیگم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب سکرٹری لجنہ ڈھا کہ بیگم چوہدری انور احمد صاحب کاہلوں اور بیگم ڈاکٹر تقی الدین احمد صاحب نے اپنی رضا کارانہ خدمات حکومت کو پیش کیں۔چنانچہ انہیں نارائن گنج اور ڈھا کہ میں متعین کر دیا گیا۔انہوں نے شروع کے چھ دن لوگوں کو ٹیکے لگائے۔چاول اور کپڑے تقسیم کئے۔بعد میں ایسی جگہوں پر جہاں پانی میں مکان ڈوب چکے تھے اور لوگ مچان بنا کر اوپر بیٹھے ہوئے تھے ان کی خدمت کا بھی موقع ملا۔لوگوں کیلئے کھانے کا کوئی سامان نہ تھا۔کشتیوں کے ذریعہ سے ان کو کھانا پہنچا دیا جاتا رہا۔بارہ تیرہ دن پہلے یہاں کام جاری رہا۔پھر دوسری جگہوں میں جا کر خدمات سرانجام دیں۔لوگوں پر اس کا بہت اثر ہوا۔عملی خدمات کے علاوہ چندہ جمع کر کے سیلاب زدگان کو دیا گیا۔سے فضل ۷۸ ستمبر ۱۹۵۴ء صفحریم سے مصباح نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۳۷ ۲ الفضل ۱۳ را کتوبر ۱۹۵۴ء صفحه ۶