تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 23
23 23 گے۔ظالم دشمنوں کو ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے حکومت ان کو سزا دینے کی بجائے ہمارے آدمیوں کو سزا دے رہی ہے۔ہماری جماعت کے نو جوانوں کا فرض ہے کہ وہ قطعی طور پر بھول جائیں کہ ان کے کوئی عزیز اور رشتہ دار بھی ہیں۔وہ بھول جائیں اس بات کو کہ ان کے سامنے کیا مصائب اور مشکلات ہیں۔انہیں صرف ایک ہی بات یا درکھنی چاہیئے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے ایک عہد کیا ہے اور اس عہد کو پورا کرنا ان کا فرض ہے۔آج خدا ہی ان کا باپ ہونا چاہیئے۔خدا ہی ان کی ماں ہونی چاہیئے اور خدا ہی ان کا عزیز اور رشتہ دار ہونا چاہیئے۔میرے بیٹوں میں سے آٹھ بالغ بیٹے ہیں اور ان آٹھوں کو میں نے اس وقت قادیان میں رکھا ہوا ہے۔میں سب سے پہلے انہی کو خطاب کر کے کہتا ہوں اور پھر ہر احمدی نوجوان سے خطاب کر کے کہتا ہوں کہ آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے۔آج ثابت قدمی کے ساتھ قید و بند اور قتل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قادیان میں ٹھہر نا اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا تمہارے فرض میں شامل ہے۔حضور کے اس مضمون کا یہ اثر ہوا کہ احمدی نوجوان دیوانہ وار اسلام اور سلسلہ کی حفاظت کے لئے میدانِ عمل میں آنے لگے اور پہلے سے بڑھ کر اپنی دینی غیرت اور شجات کے جو ہر دکھانے لگے۔اس ولولہ انگیز مضمون کا اثر جو احمدی خواتین پر ہوا اس کی صرف ایک مثال درج ذیل کی جاتی ہے۔محتر مہ جبیبہ بیگم ک نے اپنے خاوند محترم محمد اسمعیل صاحب آف بمبئی کو جو کہ قادیان میں مقیم تھے یہ لکھا کہ:۔کل حضرت امیر المومنین کا ایک مضمون (جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت۔الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء) شائع ہوا ہے وہ آپ کو بھیج رہی ہوں۔گو پہلے میں نے آپ کو قادیان میں رہنے سے روکا نہیں تھا لیکن کل حضور کا مضمون پڑھنے کے بعد میں نے سجدہ میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ میں اپنا سرمایہ شرح صدر سے تیرے رسول کے تخت گاہ کی حفاظت کے لئے پیش کرتی ہوں۔اور اے میرے خدا تو قادر ہے تو انکو دین کی خدمت کا موقع دیتے ہوئے بھی اپنی حفاظت میں رکھ۔آمین۔اس وقت میں زیادہ نہیں لکھ سکتی۔اللہ تعالیٰ قادیان کو سلامت رکھے اور سلامتی کے ساتھ ہمیں ملائے۔آمین اللھم آمین۔‘۳۰ ل الفضل ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء صفحه ۳ تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۱۴۹۔۱۵۰ آپ لجنہ کراچی کی آفس سیکرٹری ہیں