تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 296 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 296

296 حضرت ام المومنین کا بلند مقام :۔اللہ تعالیٰ کی نظر میں حضرت ام المومنین کا کتنا بلند مقام تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام سے ظاہر ہوتا ہے جو بار بار آپ کو ہوا یعنی إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ ( تذكره ص ۷۳۱) اس الہام کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا:۔میں نے خود حضرت صاحب سے سنا ہے فرماتے تھے کہ إِنِّي مَعَ الرَّسُولَ أَقُومُ اور إِنِّي مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ یہ دونوں الہامات ایک ایک رات میں ہزار ہا دفعہ ہوئے ہیں اور فرمایا اکثر ہوتا ہے کہ تکیہ پر سر رکھا اور ان الہامات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور صبح فجر کو نماز کے لئے اٹھے تو سلسلہ جاری تھا۔اے آپ کے اخلاق:۔جس ہستی کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے بطور جوڑا پیدا کیا اس میں اخلاق بھی اعلیٰ درجہ کے پیدا کئے۔دوستوں سے تو ہر شخص ہی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن بہت کم خواتین ہوں گی جو اپنی سوت سے محبت سے پیش آئیں۔آپ سے شادی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پہلی بیوی بھی تھیں جن سے ایک عرصہ سے عملی رنگ میں آپ علیحدگی اختیار کر چکے تھے۔حضرت اُم المومنین ان سے کسی قسم کا رنج و بغض نہ رکھتی تھیں بلکہ ان سے ہمیشہ محبت اور شفقت کا سلوک رکھتی تھیں۔حضرت ام المومنین سے روایت ہے کہ:۔ایک دفعہ مرزا سلطان احمد (صاحب) کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں ان کو دیکھنے کے لئے گئی۔واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ بھیجے کی ماں بیمار ہے اور یہ یہ تکلیف ہے۔آپ خاموش رہے میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام درمیان میں نہ آئے۔“ الفضل ۳۱۔اکتوبر ۱۹۲۱ء ص ۵