تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 295
295 کمرے میں ایک کھری چار پائی پڑی تھی جس کی پائنتی پر ایک کپڑا پڑا تھا اس پر تھکی ہاری جو پڑی ہوں تو صبح ہوگئی۔یہ اس زمانہ کی ملکہ دو جہاں کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی رات تھی۔مگر خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اے کھری چار پائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن ! دیکھ تو سہی دو جہاں کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے۔انشاءاللہ اگلی صبح حضرت مسیح موعود نے ایک خادمہ کو بلوا دیا اور گھر میں آرام کا سب بندو بست کر دیا۔یوں وہ شادی عمل میں آئی جس کے ذریعہ ایک مبارک نسل کا آغاز ہوا اور اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت پوری ہوئی کہ میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔ایک اجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے بطن سے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں عطا کیں لیکن خدائی نوشتوں کے مطابق دولر کے تین لڑکیاں بچپن میں ہی وفات پاگئے اور پانچ نے لمبی عمر پائی۔ان پانچوں جن کے نام درج ذیل کئے جاتے ہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت دی تھی کہ ے مری اولاد سب تیری عطا ہے ہر اک تیری بشارت ނ ہوا ہے پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہیں یہی ہیں پنج تن جن پر بناء تیرا فضل ہے ہے اے میرے ہادی فسبحــــان الــــدى خـــــ الاعــــــادي اخز حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ( الصلح موعود )۔( قمرالانبیاء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت مرزا شریف احمد۔حضرت نواب مبار که بیگم صاحبه دام ظلہ العالی۔حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبه دام مدظلہ العالی ے سیرت اُم المومنین جلد نمبر ا ص ۲۹۸ تا ص ۳۰۰ اشتہار ۲۰۔فروری ۱۸۸۶ء