تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 287 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 287

287 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اس موقع پر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے بیگم لیاقت علی خان صاحب کے نام ہمدردی اور تعزیت کا تار ارسال کیا۔اس سے چند روز قبل مولوی محمد علی صاحب امیر احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لا ہور وفات پاگئے تھے ان کی وفات پر بھی محترمہ جنرل سیکرٹری صاحبہ بلجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے بیگم مولوی محمد علی صاحب مرحوم کے نام تعزیتی تار ارسال کیا لے ابتدائی طبی امداد کی تربیت کے لئے ممبرات لجنہ اماءاللہ کی ایک کلاس :- نومبر ۱۹۵۱ء میں محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے ممبرات لجنہ اماء اللہ کو ابتدائی طبی امداد کی تعلیم دی اور نصاب ختم ہونے پر امتحان لیا۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی اول اور حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ مدظلہ العالی دوم آئیں اور محترمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ محترمہ امۃ الرشید شوکت صاحبہ محترمہ امتہ القدوس صاحبہ محترمہ نعیمہ صاحبہ محترمہ نسیمه صاحبه، محترمہ استانی امته الرشید صاحبه، محترمہ سعیدہ احسن صاحبہ محترمہ سعیدہ صاحبہ محترمہ مبارکہ صاحبہ محترمہ منظور النساء صاحبه محترمه بلقیس صاحبہ محترمہ امۃ المجید صاحبہ محترم امۃ الرشید صاحبہ محترمہ عطیہ صاحبہ محترمہ امۃ الحفیظ صاحبہ کامیاب ہوئیں۔اس کے بعد دو کلاسیں لگائی گئیں۔ایک کلاس حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے لی اور دوسری لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ مرحومہ نے لی۔اسی طرح خاصی تعداد میں ربوہ میں مقیم خواتین اور بچیوں نے ابتدائی طبی امداد سے واقفیت حاصل کی ہے کتاب کلاس حضرت اقدس خلیفہ المسیح الثانی نے ارشادفرمایا کہ عورتوں کو کتابت سیکھنی چاہیے تاکہ بوقت ضرورت وہ گھروں میں بیٹھ کر باعزت طریق پر اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔چنانچہ حضرت سیدہ اُمّ داؤ د صاحبہ نے روزانہ ایک گھنٹہ کلاس لگانی شروع کی۔ے رجسٹر کارروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ سے ایضاً