تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 284 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 284

284 بے حد ضروری ہے کہ کام کو نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کریں اور آئندہ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ ہو کر رہے گا لیکن اگر ہماری نیتوں میں اخلاص نہ ہوگا اور ہم اس کام کو آئندہ بہتر بنانے کی کوشش نہ کریں گے تو ہم ثواب سے محروم ہو جائیں گے گوا کثر حصہ مہمانوں کا رخصت ہو چکا ہے لیکن جتنے بھی یہاں موجود ہیں ہم اپنے سارے عملہ سمیت ان سے معافی چاہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ ناتجربہ کار اور چھوٹی عمر کی بچیوں سے مہمانوں کی خدمت میں کو تا ہی ہوگئی ہو میں بھی اپنے ساتھ کام کرنے والیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور معافی کی بھی خواستگار ہوں کام کے دوران میں سختی اور نرمی سبھی سے کام لینا پڑتا ہے۔امید ہے کہ آپ مجھے معاف فرما ئیں گی آپ کی ایک خادمہ جوگزشتہ سالوں میں آپ کی خدمت کرتی رہی ہے اور آپ کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہے وہ آج کل ڈھاکہ (بنگال) میں ہے وہ میری بیٹی بشری بیگم ہیں کل ان کا خط آیا ہے کہ میری طرف سے ہر ایک مہمان اور ہر کارکن کو سلام کہہ دیں اور دعا کی درخواست کر دیں۔( آؤ ) اب ہم سب مل کر دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ ہمیں اس سے بڑھ کر اور زیادہ سے زیادہ اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔نیز آپس میں پیارا اور محبت کے ساتھ کام کرنے کی توفیق دے۔آمین سال رواں میں وفات پانے والی لجنہ اماءاللہ کی کارکنات محتر مہ اہلیہ صاحب مرحومہ مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی مرحوم :۔محترم مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی مرحوم کی اہلیہ محترمه خورشید بیگم صاحبه ۹ ۱۷اپریل ۱۹۵۱ء کو وفات پاگئیں انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرحومہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی خوش دامن اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظہا العالی کی نانی تھیں۔بہت دیندار، خدا ترس، سادہ اور نیک خاتون تھیں۔قادیان میں جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ میں عورتوں کو بٹھانے اور خاموش رکھنے کی ذمہ داری اکثر ان کے سپرد ہوتی تھی۔کچھ عرصہ چندہ جمع کرنے کا کام بھی کیا۔مرحومہ کے ایک فرزند محترم مرزا منور احمد صاحب مبلغ اسلام نے امریکہ میں وفات پائی اور دوسرے فرزند محترم مرز احمد شفیع صاحب ۱۹۴۷ء کے فسادات کے دوران قادیان میں شہید ہو گئے تھے۔الفضل ۱۳ را پریل ۱۹۵۱ ص ۲ کالم نمبر ۲