تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 271
271 عصرانہ کے بعد محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے تلاوت قرآن کریم کی اور حضرت مصلح موعود کے کلام میں سے ایک نظم پڑھ کر سنائی اور پھر ایک مختصری تقریر کی جس میں جماعت احمدیہ کے عقائد پیش کئے اور خاتم النبین کی تشریح کی اور بتایا کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت ﷺ کی شریعت کو ہی زندہ کرنے کے لئے تشریف لائے ہیں۔تقریر کے بعد حاضرات کو سوالات کا موقع دیا گیا۔ان کے سوالات کے تسلی بخش جواب دیئے گئے۔ٹریکٹ بھی تقسیم کئے گئے اور ربوہ آنے کی دعوت دی گئی۔دوسرے دن جلسہ کا انتظام تھا جس میں غیر احمدی مستورات اور سکول کی طالبات شامل ہوئیں۔طالبات نے وفات مسیح صداقت حضرت مسیح موعود خاتم النبین اور معجزات حضرت مسیح موعود پر سوالات کئے جن کے تسلی بخش جواب دیئے گئے۔لٹریچر پڑھنے کے لئے دیا گیا۔اس کے بعد لجنہ کا اجلاس ہوا جس میں حضرت سیدہ ام داؤ د صاحبہ نے قیمتی نصائح فرما ئیں اور تبلیغی جد و جہد کو تیز کرنے کی تلقین کی اور حاضرات کو محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ سے متعارف کروایا گیا اور بتایا کہ آپ اپنے خاوند کے ہمراہ جو مبلغ اسلام ہیں ماریشش جانے والی ہیں۔آخر میں محترمہ امتہ العزیز صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مگھیانہ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اڑھائی بجے بعد دو پہر یہ کارروائی دعا پر ختم ہوئی ہے ملحقہ دیہات کا دورہ :۔حضرت سیدہ ام داؤ د صاحبہ کی قیادت میں ربوہ سے ملحقہ دیہات کا بھی دورہ کیا گیا۔چنانچہ ایک وفد کھچیاں، چھنیاں (چمن عباس ) بھی گیا تا کہ ان لوگوں سے جو ہمارے ہمسائے ہیں تعلقات قائم ہوں۔ایک مخالف اخبار کا اعتراف:۔لجنہ اماء اللہ کی تبلیغی سرگرمیوں سے جہاں بہت سی غیر از جماعت خواتین کی غلط فہمیاں دور ہوئیں وہاں اس سے مخالف احمدیت حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔احراری اخبار آزاد (لاہور) نے اپنی ۲۶ / دسمبر ۱۹۵۰ء کی اشاعت میں لکھا:۔مرزائی عورتوں نے لجنہ اماءاللہ کے نام سے علیحدہ تنظیم قائم کر رکھی ہے اور وہ عورتوں میں امصباح جون ۱۹۵۱ء صفحه ۳۶