جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 48 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 48

48 جنازہ پڑھائی۔احباب نے جو کہ ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے تھے اپنے محبوب اور پیارے آقا کا آخری بار دیدار کیا جس کے بعد حضور کے جسد اطہر کو مورخہ 27 رمئی 1908ء کو چھ بجے شام مقبرہ بہشتی قادیان میں سپردخاک کر دیا گیا اور اس طرح وہ عظیم الشان وجود ہمیشہ کے لئے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا جس کی بشارت خود صل اللہ نے مسلمانوں کو دی تھی اور جس کے ذریعہ سے اس مبارک زمانہ میں اسلام کی ترقی مقدر ہے۔حلیہ مبارک: حضرت مسیح موعود مردانہ خوبصورتی کا اعلیٰ نمونہ تھے جسم نہ زیادہ دبلا تھا اور نہ موٹا تھا۔قد درمیانہ تھا۔کندھے اور چھاتی کشادہ ، رنگ سفیدی مائل گندمی تھا۔چہرہ پر ہمیشہ ایک خاص قسم کے نور، بشاشت اور چمک کی جھلک رہتی تھی۔سر کے بال نہایت باریک،سید ھے اور چمکدار تھے۔داڑھی گھنی مگر بہت خوبصورت تھی۔آنکھیں سیاہی مائل شربتی رنگ کی تھیں اور ہمیشہ نیچے کی طرف جھکی رہتیں۔پیشانی سیدھی، بلند اور چوڑی تھی اور اس سے نہایت فراست اور ذہانت ٹپکتی تھی۔لباس بہت سادہ ہوتا تھا یعنی کرتا یا قمیض ، پائجامہ ، صدری ، کوٹ اور پگڑی پرمشتمل ہوتا تھا۔پاؤں میں دیسی جوتی پہنتے تھے۔باہر جاتے وقت ہاتھ میں عصا ضرور رکھتے تھے۔خوراک بہت سادہ تھی اور کھانا بہت کم اور آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔حضور کے عادات و اخلاق: -1 حضور کی عادات و خصائل میں یہ باتیں نمایاں تھیں :- حضور کو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر اور اپنے دعوی کی سچائی پر کامل یقین تھا اور