جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 47 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 47

47 کیا۔چنانچہ بعض اخبارات نے آپ کو اسلام کا فتح نصیب جرنیل، اسلام کا بہادر پہلوان، نہایت نیک اور پاکباز اور اسرائیلی نبیوں سے مشابہ بزرگ قرار دیا۔لیکن چونکہ تنگ دل لوگ احمدیت سے دشمنی رکھتے تھے انہوں نے بھی اس موقع پر اپنی دشمنی اور دلی بغض و حسد کو ظاہر کرنے میں کوئی کمی نہ کی چنانچہ انہوں نے اس مکان کے نزدیک جہاں حضور نے وفات پائی احمدیوں کی دلآزاری کے لئے جلوس نکالے۔گالیاں دیں اور نہایت ذلیل حرکتوں کا ارتکاب کیا جنہیں احمدیوں نے بڑے صبر کے ساتھ برداشت کیا۔انتخاب خلافت اور تدفین : حضور کا جنازہ بذریعہ ریل بٹالہ لا یا گیا۔جہاں سے احباب اپنے کندھوں پر اُٹھا کر قادیان لائے ( بٹالہ سے آگے اس وقت ریل نہیں جاتی تھی ) مورخہ 27 مئی 1908ء کو نماز جنازہ سے قبل جماعت احمدیہ نے متفقہ طور پر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو خلیفتہ المسیح الاول منتخب کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر ایک ہاتھ پر جمع ہو گئی اور اس طرح رسالہ ” الوصیت میں حضرت مسیح موعود نے خلافت کی جو خوشخبری دی تھی وہ پوری ہو گئی اور جو لوگ سمجھتے تھے کہ شاید اب یہ جماعت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی ان کا یہ خیال سرا سر غلط ثابت ہوا۔گو بظاہر جماعت نے خود خلیفہ منتخب کیا لیکن ہمارا یہ ایمان ہے کہ خلیفہ در اصل خدا تعالیٰ خود بناتا ہے اور اس کے لئے خود مومنوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرتا ہے۔پس حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جو کہ حضرت مسیح موعود کے پرانے اور خاص رفقاء میں سے تھے خدا تعالیٰ نے خود خلیفہ بنایا اور اس طرح آپ کے ہاتھ پر جماعت کو متحد کر دیا۔خلافت کے انتخاب کے بعد حضرت خلیفہ اول نے حضرت مسیح موعود کی نماز