جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 92 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 92

92 آخری بیماری اور وفات : سفر یورپ سے آنے کے بعد گو حضور کو ایک حد تک آرام محسوس ہوتا تھا اور حضور نے نمازیں پڑھانی ، خطبات دینے اور خلافت کے دیگر ضروری کام بھی سرانجام دینے شروع کر دیئے تھے مگر اصل بیماری ابھی موجود تھی۔اسی حالت میں حضور نے تفسیر صغیر جیسا اہم کام شروع کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ زیادہ کام کرنے کی وجہ سے حضور پھر زیادہ بیمار ہو گئے۔1958ء میں بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا۔ہر ممکن علاج ہوتا رہا۔ملک کے قابل ترین ڈاکٹروں کے علاوہ بیرونی ملکوں کے ڈاکٹروں کو بھی دکھایا گیا اور ان سے مشورے کئے جاتے رہے مگر بیماری بڑھتی ہی چلی گئی اور حضور کمزور ہوتے گئے۔حتی کہ آخر وہ وقت بھی آگیا جس کا تصور بھی کوئی احمدی نہیں کرنا چاہتا تھا یعنی مورخہ 8 نومبر 1965ء کی درمیانی رات کو 2 بج کر 20 منٹ پر قریباً77 سال کی عمر میں حضور ہمیں داغ جدائی دے کر اپنے مولائے کریم کے پاس جا پہنچے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضور کی وفات پر احمدیوں کی جو حالت ہوئی اس کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا لیکن سچا مومن ہر حالت میں خدا کی رضا پر راضی رہتا ہے۔جب خدا کی یہ سنت ہے کہ جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے آخر وہ یہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔تو حضور نے بھی آخر اس دنیا سے رخصت ہونا ہی تھا سو آخر وہ وقت آگیا اور حضور ہم سے رخصت ہو گئے اگلے دن مورخہ 9 نومبر کو ساڑھے 4 بجے سہ پہر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ میں پاکستان کے ہر حصہ سے آئے ہوئے قریباً 50 ہزار احمدی شامل ہوئے جو کہ اپنے پیارے آقا کی وفات کی خبر سنتے ہی دیوانہ وار اپنے مرکز میں پہنچ گئے تھے۔نماز جنازہ سے پہلے سب احباب نے اپنے پیارے امام کا آخری دیدار کیا۔نماز جنازہ کے بعد آپ کو مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت اماں جان کے مزار