جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 57 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 57

57 دیتے یا میموں اور غریبوں کی پرورش میں صرف کر دیتے تھے۔خلافت اولی کا انتخاب: 26 رمئی 1908 ء کو حضرت مسیح موعود نے وفات پائی۔27 مئی کو جب آپ کا جنازہ قادیان میں لایا گیا تو تمام جماعت نے متفقہ طور پر حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جماعت احمدیہ کا امام اور حضرت مسیح موعود کا پہلا خلیفہ منتخب کیا اور تمام احمدیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔بیعت سے پہلے حضرت مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ:- ”میرے دل میں کبھی امام بننے کی خواہش نہیں ہوئی۔لیکن اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سُن لو! بیعت بک جانے کا نام ہے۔تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہاً ( یعنی مجبوراً) اس بوجھ کو اُٹھاتا ہوں۔“ خلافت اولی کے اہم واقعات مدرسہ احمدیہ کا قیام: دینیات کی ایک علیحدہ شاخ تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ساتھ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں قائم ہوگئی تھی لیکن حضرت خلیفہ اول کی خواہش تھی کہ اس مستقل اور الگ صورت میں حضرت مسیح موعود کی یادگار کے طور پر قائم کیا جائے۔چنانچہ یکم مارچ 1909 ء کو باقاعدہ طور پر مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے۔کچھ عرصہ بعد جب اس مدرسہ کا انتظام