جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 45
45 ڈوئی کا خدا سچا ہے یا ہمارا۔وہ بات یہ ہے کہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سنائیں بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کریں کہ جو ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائے۔“ ساتھ ہی حضور نے یہ بھی لکھا کہ :- (ریویو آف ریلیجنز ماه تمبر 1902ء) اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقینا سمجھو کہ اس کے صحون ( ڈوئی کا آباد کیا ہوا شہر۔ناقل ) پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 71) جب لوگوں نے ڈوئی سے کہا کہ اس کا جواب دو تو اس نے بڑے تکبر کے ساتھ یہ کہا کہ:- " کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کو جواب دوں گا؟ اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں اُن کو کچل کر مار ڈالوں گا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 73) بالآخر اسے اس گستاخی کی سزا مل گئی اور حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔اس پر فالج کا حملہ ہوا زبان بند ہو گئی۔اس کے مریدوں نے اسے شرابی اور خائن پا کر اس کا ساتھ چھوڑ دیا اس کی بستی تباہ ہو گئی۔آخر مارچ 1907ء میں وہ بڑی حسرت، دکھ اور درد کے ساتھ بے یار و مددگار ہونے کی حالت میں مر گیا۔آخری سفر لا ہور اور وفات : حضور مع اہل و عیال 27 را پریل 1908ء کو لاہور تشریف لے گئے وہاں پر