جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 63 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 63

63 نے دہلی تک کا ٹکٹ بھی خرید دیا اور ایک معقول رقم بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دی۔اس سے تم اندازہ لگا لو کہ حضرت مولوی صاحب کا حضور کی اطاعت کرنے کا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور تو کل کرنے میں کیسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھا۔آپ کی انہی خوبیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے آپ کی تعریف میں یہ فارسی شعر کہا کہ ؎ چہ خوش بودے اگر ہر یک زاُمت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہی اچھا ہواگر میری قوم اور جماعت کا ہر فرد نور دین بن جائے۔مگر یہ بھی ہوسکتا ہے جبکہ ہر ایک دل نور دین کی طرح یقین کے نور سے بھر جائے۔حضرت مولوی صاحب کے اعلیٰ مقام کا اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ نے شروع سے ہی اپنی فراست سے یہ معلوم کر لیا تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مصلح موعود ہیں اور کسی زمانہ میں جماعت کے خلیفہ بن کر دین کی خاص خدمت کریں گے۔چنانچہ کئی دفعہ آپ نے اس کا اظہار بھی کیا۔اپنی خلافت کے آخری زمانہ میں آپ نے حضرت خلیفہ ثانی کو ہی اپنی جگہ نمازیں پڑھانے اور خطبات دینے کے لئے مقرر فرمایا۔پھر آپ کو اپنی جگہ صدرا مجمن احمدیہ کا پریزیڈنٹ بھی بنادیا۔غرض آپ نے اپنے عہد خلافت میں خلافت کی اہمیت کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفہ ثانی کے مقام کو بھی خوب واضح کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ جماعت میں سخت فتنہ پیدا ہونے کے باوجود اکثر جماعت صحیح اور سچی راہ پر قائم رہی اور خلافت سے وابستہ رہی۔