جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 46
46 حضور نے تقاریر فرمائیں۔مختلف مذاہب کے لوگوں کو ملاقات کا شرف بخشا۔ایک رسالہ پیغام صلح کے نام سے تحریر فرمایا۔غرض دن رات تبلیغ و تربیت کے کاموں میں مصروف رہے۔اسی دوران متواتر حضور کو اپنی وفات کے بالکل قریب آجانے کے متعلق الہامات بھی ہوتے رہے چنانچہ 20 مئی 1908ء کو الہام ہوا :- الرَّحيل ثمّ الرَّحيل والموت قريب یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔66 25 اور 26 رمئی 1908 ء کی درمیانی رات گیارہ بجے کے قریب حضور بیمار ہو گئے باوجود ہر ممکن علاج کے حالت سنبھل نہ سکی۔آخر 26 رمئی کو ساڑھے دس بجے کے قریب حضور وفات پا کر اپنے حقیقی مولا کے پاس پہنچ گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آخری وقت میں آپ کی زبانِ مبارک سے جو الفاظ سنے گئے وہ یہ تھے:۔اللہ ! میرے پیارے اللہ !" وفات کے وقت الہام کے مطابق حضور کی عمر شمسی حساب سے 74 سال اور قمری حساب سے 76 سال تھی۔غیر معمولی صدمه و مخالفت گو حضور کو ایک عرصہ سے اپنی وفات کے متعلق الہام ہورہے تھے اور وفات کے قریب کے ایام میں تو کثرت سے الہام ہو رہے تھے لیکن چونکہ حضور مختصرسی بیماری کے بعد اچانک وفات پاگئے اس لئے جماعت نے غیر معمولی طور پر بہت ہی صدمہ محسوس کیا۔دیگر مسلمانوں نے اور غیر مسلم شرفاء نے بھی حضور کی وفات پر دلی صدمہ محسوس کیا اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حضور کی خوبیوں کا کھلے دل سے اعتراف