جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 121
121 کے ساتھ روحانی تربیت کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔حضور نے گھروں میں بیتا ملی کو اپنے بچوں کی طرح رکھنے کی اہمیت بھی بیان فرمائی۔بوسنیا، افریقہ اور عراق میں جنگ اور سیاسی ابتری سے متاثر ہونے والے بچوں کی مدد کی تحریک فرمائی۔دار الاکرام کے نام سے ربوہ میں ایک ہوسٹل تعمیر ہوا جس میں والدین کی شفقت سے محروم بچوں کو عزت سے رکھنے کا انتظام ہے۔وقف نو اسکیم: جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر 3 را پریل 1987ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے جماعت کے سامنے اپنے بچوں کو پیدائش سے قبل دین حق کی خاطر وقف کرنے کا منصوبہ پیش فرمایا۔یہ منصوبہ بہت دور رس اور فائدہ مند اثرات کا حامل تھا۔آپ نے وقف کرنے والے والدین اور بچوں کے لئے بہت دعائیں کیں اور تربیت کے مخصوص طریق سمجھائے۔جماعت نے حسب معمول اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا خصوصاً خواتین نے قربانی کی مثالیں قائم کیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے اس تحریک میں شمولیت کی تمنا میں بعض بے اولاد جوڑوں کو بچے عطا ہوئے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ واقفین نو میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے زیادہ ہے۔کل واقفین نوقریباً 26,000 ہو چکے ہیں۔جلسہ ہائے سالانہ برطانیہ: دور ہجرت میں برطانیہ میں خلیفہ المسیح کی موجودگی نے جلسہ ہائے سالانہ برطانیہ کو ایک لحاظ سے مرکزی حیثیت دے دی۔ساری دنیا سے احمدی خواتین و احباب جولائی کے آخر میں کشاں کشاں لندن پہنچتے۔حضور کے خطبات نئی نظمیں، عالمی بیعت کے نظارے اور دورانِ سال ہونے والے الہی انعام وافضال کی بارشوں