جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 120
120 اب وقت آگیا ہے کہ جماعت احمد یہ عالمگیر سطح پر ریڈ کراس وغیرہ کی طرز پر خدمت خلق کی ایک ایسی تنظیم بنائے جو بغیر رنگ ونسل کے امتیاز کے انسانوں کی خدمت کرے اس میں صرف احمدیوں کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے شریف النفس انسانوں کو شامل کیا جائے گا اور سب کی مالی مدد سے اس کو چلایا 66 جائے گا۔“ بوسنیا اور صومالیہ کے متاثرین کے لئے مدد کی تحریک 30 اکتوبر 1992ء کے خطبہ جمعہ میں فرمائی۔بوسنیا کے آفت زدگان کے لئے 29 جنوری 1993ء کو بھی تحریک فرمائی۔روانڈہ کے مظلومین کے لئے 22 جنوری 1999ء کے خطبہ جمعہ میں مدد کی تحریک فرمائی۔قدرتی آفات، جنگلوں میں آگ اور دیگر کئی قسم کے عذابوں سے متاثر انسانیت کی خدمت کیلئے احمدی نوجوانوں نے رضا کارانہ عملی خدمت کی۔خواتین نے بھی ایک مثال قائم کی۔1985ء میں ایک ہزار احمدی خواتین نے اپنی آنکھیں عطیہ کیں۔ربوہ میں بلڈ بنک اور آئی ڈونرز اسکیم کے تحت مستقل منصوبہ بندی سے کام ہو رہا ہے۔کفالت یتامی : جنوری 1991 ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے کفالت یکصد یتامی کمیٹی کا منصوبہ پیش فرمایا۔اس کام میں آپ کی ذاتی توجہ اور دعاؤں سے اس قدر برکت پڑی کہ ڈیڑھ ہزار یتامی کو اس کا فیض پہنچ رہا ہے۔ان بچوں کی جسمانی ضروریات