تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 299 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 299

جلد اوّل 268 تاریخ احمدیت بھارت حضرت صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب نے اس آخری قافلہ کی روانگی کے متعلق اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر فرمائے۔آخری قافلہ یہاں سے 16 نومبر 1947ء کو گیا۔چونکہ بہت لوگوں نے جانا تھا۔ہر قسم کی تیاری کرنی تھی اس لئے اکثر لوگ قریباً بیشتر حصہ رات کا جاگتے رہے۔مگر صبح ہی پھر بہلچل جلدی ہی شروع ہوگئی اور سامان کے ساتھ یہ لوگ محلہ دار الانوار کی سڑک پر پہنچنے شروع ہو گئے۔بارہ بجے کے قریب سب ٹرک لد گئے اور اجتماعی دعاؤں کے بعد جو کہ مسجد مبارک ، بیت الدعا، مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرہ میں ہو ئیں سب لوگ ٹرکوں کے پاس پہنچ گئے۔مگر وہاں منظر ہی اور تھا۔جانے کی خوشی تو کسی کو کیا ہونی تھی۔ہر ایک رنج اور غم سے پسا جارہا تھا۔ہر ایک قدم جو کنوائے کی طرف اٹھتا تھا وہ آگے سے بوجھل ہوتا تھا۔جو ضبط کی طاقت رکھتے تھے وہ ضبط کی کوشش کرتے۔مگر اس کے راز کو ان کی سرخ آنکھیں پکار پکار کر فاش کر رہی تھیں۔اور جن کو ضبط کی طاقت نہ تھی ، وہ اس طرح روتے تھے جس طرح کہ کوئی بچہ اپنی ماں سے بچھڑنے کے وقت روتا ہے۔آخر وہ وقت بھی آگیا یعنی الوداعی دعا کا جس کرب اور الحاج کے ساتھ یہ دعامانگی گئی اور جس تضرع اور عاجزی سے انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا، اس کو الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔اور جس نے وہ نظارہ دیکھا وہ بھی اسے بھول نہیں سکتا۔وہاں بہت سے غیر مسلم آئے ہوئے تھے۔اس کے علاوہ مسلم ملٹری کے سب سپاہی موجود تھے۔اور وہ سب محو حیرت تھے کہ ان لوگوں کو کیا ہوا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کی گزشتہ چار ماہ موت کے منہ میں جھانکنے کے باوجود بھی اس وقت یہ حالت ہے جبکہ ان کو موت سے بچایا جا رہا ہے۔اللہ اللہ احمدیت کی صداقت کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے۔کسی جھوٹے رسول ، اس کی بستی ،اس کے شعائر سے انسان اس قدر محبت نہیں کر سکتا۔دعا ختم ہوئی ٹرک ایک ایک کر کے روانہ ہوئے۔جانے والے چلے گئے۔اور پیچھے رہنے والے ایک سکتہ کی حالت میں ان کو تکتے رہے۔میں بھی انہیں لوگوں میں تھا جو کہ ان کو الوداع کر رہے تھے۔اور جب میں پھر اپنے ہوش میں آیا تو میرے منہ پر یہ شعر تھا۔کر کے رخصت ان کو تاحد نظر دیکھا گئے جس طرف دیکھانہ جاتا تھا اُدھر دیکھاگئے (40)