تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 256
تاریخ احمدیت بھارت 227 جلد اوّل ہیں کہ مسلمان قادیان چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ہم اس وقت اختلاف عقائد کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔نہ یہ وقت اس بحث کو چھیڑنے کے لئے موزوں ہے۔مسلمانوں سے ہماری درخواست صرف اس قدر ہے کہ اغیار کو اس وقت اس سے کوئی غرض نہیں کہ فلاں شخص کے عقائد کیا ہیں۔حتی کہ انہیں اب کانگرسی اور لیگی کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ نام مسلمانوں کا ہے اور شکل وصورت مسلمانوں کی سی ہے ایسا ہر شخص ان کے نزدیک واجب القتل ہے۔اگر اہل قادیان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ غنڈہ گردی کا مقابلہ کریں گے اور مدافعت و مزاحمت کئے بغیر یہاں سے نہیں نکلیں گے تو ہر کلمہ گو کو ان سے حسب استطاعت عملی یا محض اخلاقی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہئیے۔“ -2 اسی اخبار ” نوائے وقت“ نے اپنی اشاعت 23 ستمبر میں حسب ذیل خبر شائع کی:۔قادیان میں حکام نے کرفیو نافذ کر دیا۔۔۔خانہ تلاشیوں کی بھرمار لوگوں سے اسلحہ چھینا جارہا ہے۔سیکرٹری انجمن احمد یہ پاکستان کا بیان لاہور 22 ستمبر :۔وسطی انجمن احمد یہ پاکستان کے سیکرٹری نے مندرجہ ذیل بیان اخبارات کے نام جاری کیا ہے کہ 21 ستمبر سے قادیان میں 6 بجے شام سے لیکر صبح 5 بجے تک کے لئے کرفیو لگا دیا گیا ہے۔اگر تو اس اقدام سے امن قائم رہا تو مسلمان اس کا روائی پر حکومت کے ممنون ہوں گے۔لیکن اگر اس کا روائی سے قادیان کے مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ حملہ کیا جانا مقصود ہے تو اس بات میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہوگی کہ کر فیو اس لئے لگایا جائے کہ مسلمانوں کو جو دفاع کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں انہیں تہس نہس کر دیا جائے۔سرکاری خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس تلاشیاں لے رہی ہے اور لائسنس یافتہ بندوقیں اور گولی بارو د ضبط کر رہی ہے۔پولیس نے احمد یہ جماعت کے امام کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کا تمام اسلحہ ضبط کر لیا جس کا لائسنس ان کے پاس موجود تھا۔اس امر کا خدشہ ہے کہ کوئی حملہ نہ ہو جائے اور حکومت پھر یہ عذر نہ کرے کہ جتھے قابو سے باہر ہو گئے اور انہوں نے فوج پر حملہ کر دیا اس لئے احمدیوں کے خلاف کاروائی کرنی پڑی۔ہر ایک احمدی سمجھ سکتا ہے کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے اور پولیس کا کوئی کاروائی کرنا سوائے اس کے اور کچھ مقصد نہیں رکھتی کہ پولیس احمدیوں کے خلاف ان جتھوں کی مدد کرے۔“