تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 203 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 203

جلد اوّل 174 تاریخ احمدیت بھارت اسی پریشانی کے عالم میں آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ: حضور کا ارشاد ہر حال قابل تسلیم ہے۔مگر میں اس وقت عجیب دیدہ میں ہوں کیونکہ ایک طرف تو حضور والی تفصیلی سیکیم صدر صاحبان کو بتلا تو دی گئی ہے اور بعض دوسرے اصحاب کے علم میں بھی آگئی ہے مگر حسب ہدایت ابھی مساجد میں اعلان نہیں ہوا۔اور میں ڈرتا ہوں کہ عام اعلان کے ہونے اور لوگوں کے اس سکیم کو جذب کر لینے سے قبل میرا یہاں سے جانا گھبراہٹ کا باعث نہ ہو۔۔۔مگر بہر حال حضور کا ارشاد مقدم ہے اور میں نے شمس صاحب مولوی ابوالعطاء صاحب اور میاں ناصر احمد صاحب کی ایک کمیٹی بنادی ہے کہ وہ اس معاملہ میں رائے دیں۔مگر یہ کمیٹی بھی غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ حضرت میاں صاحب کا پاکستان جانا سلسلہ کے مفاد و مصالح کے مطابق ضروری ہے۔تب آپ میجر مرزا داؤ د احمد صاحب کے اسکورٹ کے ذریعہ پاکستان تشریف لے گئے۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 162 مطبوعہ 2007ء) 15 - سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی بیت الظفر (حالیہ بجلی گھر ) میں ان دنوں بھا مڑی کے مسلمان پناہ گزین تھے۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 163 مطبوعہ 2007ء) 16۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نظارت امور عامہ کی سالانہ رپورٹ (48-1947ء) میں شعبہ کا رخاص کے زیر عنوان لکھتے ہیں ”مولوی عبد العزیز صاحب کو گذشتہ فسادات کے ایام میں پولیس نے بلاوجہ محض اس شعبہ کا انچارج ہونے کی وجہ سے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔اور ہنگامی اور انقلابی حالات کے ماتحت مولوی احمد خان صاحب نیم فاضل مبلغ (برما) کو بھی مولوی عبد العزیز صاحب کے ساتھ اس ڈیوٹی پر کام کرنا پڑا۔مولوی عبدالعزیز صاحب اور مولوی احمد خان صاحب نیم۔۔۔۔۔دھار یوال ضلع گورداسپور میں ہر دو حضرات کے ساتھ شر پسندوں نے نہایت بہیمانہ سلوک کیا۔ناقل ) ان سے پوچھا جاتا تھا کہ بتلاؤ۔۔۔۔(DUMPS)ذخائر اسلحہ کہاں کہاں ہیں؟ اس طرح تین ہفتہ تک انہیں بلائے تعذیب میں مبتلا رکھا گیا اور جب انہیں جیل میں لایا گیا اور مجھے دیکھنے کا موقعہ ملا تو نہایت ہی قابل رحم حالت میں پایا گیا۔ان دونوں نے صبر و تحمل کا قابل رشک نمونہ دکھلایا۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ان کا نمونہ صبر وقتل بطور نیک یاد کے انشاء اللہ قائم رہے گا‘) ( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 163 تا164 مطبوعہ 2007ء)