تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 129
تاریخ احمدیت بھارت 113 جلد اوّل قادیان پر جبر و تشدد کے متفرق خونی واقعات کا جامع نقشہ مکرم خواجہ غلام نبی صاحب بلانوی سابق ایڈیٹر الفضل نے قادیان کے حالات پر ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا جو اخبار الفضل میں آٹھ قسطوں میں ” قادیان کے المناک اور خونچکاں حادثات میں سے کچھ“ کے عنوان سے شائع ہوا جسکے ایک حصہ کو قبل ازیں قارئین نے ملاحظہ کر لیا ہے۔اس مستند اور مبسوط مضمون کا مزید حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔آپ لکھتے ہیں: میں حال ہی میں اس قافلہ کے ساتھ قادیان سے لاہور پہنچا ہوں جس میں پچاس سال سے زائد عمر کے اصحاب کو بھیجا گیا ہے۔میں نے قادیان میں شروع سے لے کر 20 اکتوبر تک اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اور کانوں سے سناوہ اگر چہ مقامی پولیس اور ملٹری کی عائد کردہ پابندیوں اور انتہائی خطرات کی وجہ سے جو سیلاب کی طرح امرے چلے آتے تھے۔ایک نہایت ہی محدود اور مختصر حلقہ سے تعلق رکھتا ہے۔تاہم اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ ان ایام میں قادیان کی مقدس بستی اور اس کے امن پسند ساکنین جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر قادیان میں آبیٹھے تھے اور جن کی زندگی کا مقصد اپنے خالق و مالک کی عبادت اور رضا جوئی اور اسکی مخلوق کی خواہ وہ کسی مذہب وملت کی ہو خدمت گزاری اور خیر خواہی تھی اور جو گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے اپنے قول اور فعل سے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت دُنیا کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، ان پر کیا کچھ گزری۔کیسے کیسے شرمناک اور انسانیت سوز مظالم کا انہیں نشانہ بنایا گیا اور حکومت کے ان کا رندوں نے جو قیام امن کے ذمہ دار، قانون کے محافظ اور رعایا کی جان و مال اور عزت و آبرو کے نگہبان سمجھے جاتے ہیں۔امن پسند ، قانون کے پابند اور مخلوق خدا کے حقیقی خیر خواہ اور ہمدرد انسانوں کو بلا وجہ اور بغیر قصور کس طرح انتہائی مصائب اور آلام کا نشانہ بنایا اور اس وقت تک چین نہ لیا جب تک گلستان کی طرح پھلے پھولے قادیان کو اور اس کے بے شرر ساکنین کو بے گھر نہ کر دیا اور بستے گھروں کو اُجاڑ کر وحشی لٹیروں کی تحویل میں نہ دے دیا چونکہ میرا مکان محلہ دارالرحمت میں واقع تھا اور آبادی کے مغرب میں اسی طرف تھا جدھر سے سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے مطابق انتہائی شدت اور پورے انتظام کے ساتھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غنڈوں نے کثیر تعداد میں جمع ہو کر پولیس اور ملٹری کی امداد کے