تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 128 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 128

جلد اوّل 112 تاریخ احمدیت بھارت احمدیہ کی طرف سے مسلمانوں کو اس موقع پر دی جارہی تھی انہوں نے صاف لکھا کہ یہ بڑے بڑے شہر نہیں ہیں جو اس وقت اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آئے ہیں بلکہ یہ ایک دور افتادہ گاؤں قادیان کے رہنے والے لوگ ہیں جنہیں ہم ماضی میں کافر کہتے رہے ہیں۔جو اس نازک وقت میں بے قرار ہو کر ہماری مدد کے لئے پہنچے ہیں۔ان دنوں سونے کی مہلت کم ہی ملتی تھی۔دو ہی کام تھے ٹرکوں پر گندم لا دنا یا پھر پہرہ کی ڈیوٹی۔“ اگست 1947ء جماعت احمدیہ کے لئے ایک غیر متوقع مصیبت بن کر آیا۔قادیان اور اس کا نواحی علاقہ اب ہندوستان میں شامل کیا جا چکا تھا۔بڑے غور و فکر کے بعد (حضرت) خلیفہ ثانی نے فیصلہ فرمایا کہ اب قادیان سے انخلا ناگزیر ہو گیا ہے یعنی وہی قادیان جہاں جماعت احمدیہ کے بانی پیدا ہوئے، پہلے بڑھے اور وفات کے بعد دفن ہوئے ، وہی قادیان جو جماعت کا مقدس مرکز اور ہر احمدی کے دل کی دھڑکن ہے۔اب اگر چہ جماعت کے مستقبل کا پاکستان سے ایک گہرا تعلق قائم ہو چکا تھا یعنی وہ ملک جس کی تخلیق میں جماعت احمدیہ نے اتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور اتنی قربانیاں دی تھیں بایں ہمہ (حضرت) خلیفہ ثانی نے بڑے وثوق سے جماعت کو یقین دلایا کہ جماعت ایک نہ ایک دن قادیان ضرور واپس جائے گی۔31 اگست کو حکومت کی طرف سے قادیان کی مساجد، مدارس، دفتری عمارات اور نجی مکانات کو سر بمہر کر کے مقفل کر دیا گیا تھا۔قادیان کے احمدی دوسرے مسلمانوں کی طرح پاکستان میں پناہ لینے کے لئے ہجرت کر رہے تھے۔چنانچہ ٹرکوں کا ایک عظیم قافلہ پاکستان کے فوجی دستوں کی حفاظت میں قادیان سے روانہ ہوا۔جانے والوں نے جاتے وقت عجلت میں تھوڑا بہت ضرورت کا جو سامان ہاتھ لگا ساتھ لے لیا۔یہ قافلہ روانہ تو ہو گیا لیکن پناہ گزینوں کے اس قافلے کو نوزائیدہ مملکت پاکستان کی سرحد تک قدم قدم پر حملہ آور جتھوں کا سامنا کرنا پڑا۔قادیان خالی ہو گیا۔صرف تین سو تیرہ احمدی پیچھے رہ گئے۔یہ وہ درویش تھے جنہوں نے خطرات کی پروانہ کرتے ہوئے اپنی خدمات حفاظت مرکز کے لئے پیش کر دی تھیں اور یہ عہد کیا تھا کہ جانے والوں کی واپسی تک وہ جماعت کے مقامات مقدسہ اور املاک کی حتی الامکان حفاظت اور دیکھ بھال کی کوشش کریں گے۔عجیب بات یہ ہے کہ ان مجاہدین کی تعداد بھی تین سو تیرہ ہی تھی جو ( حضرت ) محمد اللہ کی عظیم قیادت میں بدر کے معرکے میں شامل ہوئے تھے۔(27)