تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 78
جلد اوّل 62 تاریخ احمدیت بھارت میں زیادہ سے زیادہ عورتیں اور بچے لدوا کر انہیں جلد سے جلد باہر بھجوا دو۔اور جب عورتیں محفوظ ہوجائیں تو پھر باقی معاملہ جو ہماری طاقت سے باہر ہے خدا پر چھوڑ دو۔وَلِلْبَيْتِ ربُّ يَمْنَعُهُ اب لڑکوں کا حال یہ تھا کہ قادیان میں دو قسم کے ٹرک پہنچتے تھے۔ایک وہ پرائیویٹ ٹرک جو بعض احمدی فوجی افسر اپنے اہل و عیال اور اپنے ذاتی سامان کو لے جانے کے لئے اپنے فوجی حق کی بناء پر حاصل کر کے قادیان لے جاتے تھے۔اور دوسرے وہ جماعتی ٹرک جو جماعتی کوشش سے جماعتی انتظام کے ماتحت حکومت کے حکم سے قادیان بھجوائے جاتے تھے۔جہاں تک پہلی قسم کے لڑکوں کا سوال ہے۔ظاہر ہے کہ یہ پرائیویٹ چیز تھی اور مجھے یا کسی اور کو دخل دینے کا حق نہیں تھا۔ان کے متعلق صدر صاحبان محلہ جات قادیان کو میری ہدایت صرف اس قدر تھی کہ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ ان پر ائیو یٹ ٹرکوں کے اندر بیٹھ کر کوئی احمدی مرد بلا اجازت باہر نہ چلا جائے۔نیز یہ کہ پرائیویٹ ٹرک والے فوجی افسر سے پوچھ لیا کریں کہ کیا اس ٹرک میں کسی زائد سواری کی گنجائش ہے، اور اگر گنجائش ہوا کرے تو مجھے بتا دیا کریں تامیں ایسے لڑکوں میں زائد احمدی عورتیں بھیجو اسکوں۔اور اس طرح ہماری سکیم کی جلد تر تکمیل میں مدد ملے۔چنانچہ ایسا ہوتا رہا اور جہاں تک ممکن تھا میں حکمت عملی اور سمجھوتہ کے طریق پر پرائیویٹ ٹرکوں میں بھی زائد عورتیں بھجواتا رہا۔مگر ظاہر ہے کہ یہ ٹرک میرے کنٹرول میں نہیں تھے اور جہاں تک سامان کا تعلق ہے ان لڑکوں کے مالک جتنا سامان چاہتے تھے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں اس میں دخل نہیں دے سکتا تھا۔اور میں جانتا ہوں کہ بعض ایسے پرائیویٹ ٹرکوں والوں نے اپنا سارے کا سارا سامان باہر نکال لیا۔مگر یہ ان کا قانونی حق تھا جس میں میں دخل نہ دے سکتا تھا۔البتہ دوسرے ٹرک جو جماعتی انتظام کے ماتحت جاتے تھے۔وہ بیشک کلینہ ہمارے انتظام میں تھے (سوائے اس دخل اندازی کے جو ملٹری کی طرف سے ہوتی رہتی تھی اور دن بدن بڑھتی جاتی تھی اور میں نے ایسے جماعتی لڑکوں کے لئے ایک مستعد عملہ اور کچھ اصولی ہدا یتیں مقرر کر رکھی تھیں اور ہر باہر جانے والی پارٹی کو با قاعدہ ٹکٹ ملتا تھا۔۔۔جس میں باہر جانے والی عورتوں اور بچوں کی تعداد اور سامان کی مقدار درج ہوتی تھی جس کے مطابق مقررہ عملہ چیک کر کے سواریاں بٹھاتا تھا۔سامان کا اصول سب پر یکساں چسپاں ہوتا تھا اور اس میں ضروریات زندگی کی چیزوں کو مقدم رکھا گیا تھا۔مثلاً بستر اور پہننے کے کپڑے یا بعض صورتوں میں اقل