تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 36 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 36

تاریخ احمدیت بھارت 33 جلد اوّل پانچ دریاؤں کا صوبہ دوحصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔مشرقی پنجاب ہندوستان اور مغربی پنجاب پاکستان کے حصے آیا تقسیم ملک سے قبل ہی مشرقی پنجاب کے ایک طبقہ نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ مشرقی پنجاب میں کسی بھی ایک مسلمان فرد کو رہنے نہیں دیا جائے گا۔ان کو پاکستان جانے پر مجبور کیا جائے گا۔اور اگر یہ انکار کریں تو ان کا صفایا کر دیا جائے گا۔اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر جائز و ناجائز طریق استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔دوسری طرف مسلمانوں کا نظریہ یہ تھا کہ جس زمین پر ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے رہتے چلے آرہے ہیں وہ اسے ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔اپنی مادر وطن ، اپنی مٹی ، اپنے کھیتوں، اور کھلیانوں سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔لیکن مشکل یہ تھی کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کا کوئی معین و معاون نہ تھا۔بڑی بڑی ڈینگیں مارنے والے لیڈر و مولوی پاکستان فرار ہو چکے تھے۔ان مفلوک الحال مسلمانوں کا بازو پکڑنے والا کوئی نہیں تھا۔ان کے قلع قمع کے لئے بھیڑ یا صفت خونخوار دہشت گردگروہ تیار بیٹھے تھے۔انہیں خونریزی کے لئے خاص قسم کی گوریلا غارت گری کی ٹریننگ دی گئی تھی۔انہیں اس وقت کی عسکری انتظامیہ کی بھر پور پشت پناہی حاصل تھی۔کیونکہ وہ بھی یہ چاہتی تھی کہ مشرقی پنجاب کو جلد از جلد مسلمانوں سے خالی کرایا جائے۔خاکسار راقم الحروف یکم نمبر 1973ء کو مدرسہ احمدیہ قادیان سے فارغ التحصیل ہو کر نظارت دعوت و تبلیغ میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور ناظر دعوت و تبلیغ تھے۔انہوں نے خاکسار کو کچھ عرصہ کے لئے نظارت علیا میں بھجوادیا۔تا کہ صدر انجمن احمدیہ کے معاملات اور دفتری طریقہ کار کو سمجھ سکوں۔اس وقت وہاں حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب جٹ بطور ناظر اعلیٰ و امیر جماعت احمد یہ قادیان اور (سابق صوبیدار ) محترم برکت علی صاحب درویش بطور نائب ناظر اعلیٰ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔تاریخ احمدیت جلد 10 میں مستقل خدام کی جو فہرست طبع شدہ ہے اس میں صوبیدار محترم برکت علی صاحب کا نام تیسرے نمبر پر درج ہیں۔موصوف 1947 ء کے شروع میں ہی قادیان آگئے تھے اور تقسیم ملک کے تمام حالات و واقعات سے بخوبی واقف تھے۔دفتری امور کے علاوہ مجھے بعض ایسے حیرت انگیز واقعات سناتے تھے کہ جن کو سن کر میں ورطہ حیرت میں پڑ جاتا تھا۔نیز بعض اور درویشان کرام (سابق حوالدار ) مکرم محمد عبد اللہ صاحب درویش نائب ناظر دعوة وتبلیغ ، خاکسار کے والد محترم محمد شریف گجراتی صاحب درویش اور مکرم محمد یوسف صاحب گجراتی درویش ، کرم فضل الہی خان صاحب درویش ، مکرم ملک صلاح