تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 386
تاریخ احمدیت بھارت 355 جلد اوّل لیٹ ہو گیا۔اور میں جلسہ میں شمولیت سے محروم رہا۔اس کو پورے 35 سال ہو گئے۔آج پورے 35 سال کے بعد پھر اس سال کے جلسہ میں شامل ہونے سے محروم ہوں۔ہم قادیان کے جلسہ کی یادگار میں باہر بھی جلسہ کر رہے ہیں۔لیکن اصل جلسہ وہی ہے جو قادیان میں ہورہا ہے اور پورے چالیس (40) سال کے بعد پھر یہ جلسہ مسجد اقصیٰ میں ہورہا ہے۔مسجد اقصیٰ میں ہونے والا آخری جلسہ وہی تھا جو حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری سال میں ہوا۔آپ کی وفات کے بعد پہلا جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا اور 1911 ء سے جلسے مسجد نور میں ہونے شروع ہوئے اور گزشتہ سال تک دارالعلوم کے علاقہ میں ہی جلسے ہوتے چلے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت آج پھر مسجد اقصیٰ میں ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے اس لئے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔بلکہ شمع احمدیت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے۔یہ حالات عارضی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمد یہ جماعت کا مقدس مقام اور خدائے وحدہ لا شریک کا قائم کردہ مرکز ہے۔وہ ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا اور پھر اس کی گلیوں میں دنیا بھر کے احمدی خدا کی حمد کے ترانے گاتے پھریں گے۔جولوگ اس وقت ہمارے مکانوں اور ہماری جائیداد پر قابض ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا قبضہ مخالفانہ ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ مجبور اور معذور ہیں وہ لوگ بھی اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور ان کی جائیدادوں سے انہیں بے دخل کیا گیا ہے۔گو وہ ہمارے مکانوں اور ہماری جائیدادوں پر جبراً قابض ہوئے ہیں۔مگر ان کے اس دخل کی ذمہ داری ان پر نہیں بلکہ ان حالات پر ہے جن میں سے ہمارا ملک گزر رہا ہے۔اس لئے ہم ان کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور آپ لوگ بھی انہیں اپنا مہمان سمجھیں ان سے بھی اور تمام ان شریف لوگوں سے بھی جنہوں نے ان فتنہ کے ایام میں شرافت کا معاملہ کیا ہے۔محبت اور در گذر کا سلوک کریں۔اور جو شریر ہیں اور انہوں نے ہمارے احسانوں کو بھلا کر ان فتنے کے ایام میں چوروں اور ڈاکوؤں کا ساتھ دیا ہے آپ لوگ ان کے افعال سے بھی چشم پوشی کریں۔کیونکہ سزا دینا یا خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے یا حکومت کے سپر د کیا ہے۔اور حکومت آپ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اور لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر حکومت اپنا فرض ادا کرے گی تو وہ خود ان کو سزا دے گی۔بہر حال یہ آپ لوگوں کا یا ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔خدائے واحد لاشریک کے سامنے رعایا بھی اور حاکم بھی پیش ہوں گے اور ہر ایک اس کے سامنے اپنے کاموں کا جواب دہ ہوگا۔پس خدا کے حکم کے