تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 8
جلد اوّل 8 تاریخ احمدیت بھارت اقسام کی مصیبتیں ان پر نازل ہوئیں اور بجز قادیان اور چند دیہات کے تمام دیہات ان کے قبضہ سے نکل گئے۔بالآ خرسکھوں نے قادیان پر بھی قبضہ کر لیا اور دادا صاحب مرحوم مع اپنے تمام لواحقین کے جلا وطن کئے گئے اس روز سکھوں نے پانچسو کے قریب قرآن شریف آگ سے جلا دیا اور بہت سی کتابیں چاک کر دیں اور مساجد میں سے بعض مسمار کیں بعض میں اپنے گھر بنائے اور بعض کو دھرم سالہ بنا کر قائم رکھا جواب تک موجود ہیں اس فتنہ کے وقت میں جس قدر فقراء وعلماء وشر فاو نجباء قادیان میں موجود تھے۔سب نکل گئے اور مختلف بلا دوامصار میں جا کر آباد ہو گئے اور یہ جگہ ان شریروں اور یزیدی الطبع لوگوں سے پر ہوگئی جن کے خیالات میں بجز بدی اور بدکاری کے اور کچھ نہیں پھر انگریزی سلطنت کے عہد سے کچھ عرصہ پہلے یعنی ان دنوں میں جب کہ رنجیت سنگھ کا عام تسلط پنجاب پر ہو گیا تھا اس عاجز کے والد صاحب یعنی مرز اغلام مرتضیٰ صاحب مرحوم دوبارہ اس قصبہ میں آکر آباد ہوئے “(8) ایک اور مقام پر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں سے پانسونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا۔اور آخرسکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردوزن چھکڑوں میں بیٹھا کر نکالے گئے اور پنجاب کی ایک ریاست ( کپورتھلہ۔ناقل ) میں پناہ گزین ہوئے“۔(9) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بیگو وال سے قادیان واپسی اور آپ کی پیدائش تقریباً تیس (30) سال کی ہجرت کے بعد 35-1834 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان دوبارہ قادیان میں واپس آیا۔اس وقت حضرت مرزا گل محمد صاحب کے زمانے کا قادیان ویران