تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 255
جلد اوّل -6 226 تاریخ احمدیت بھارت اس اخبار کا ایک اور نوٹ ملاحظہ ہو جو دو اکتوبر 1947ء کی اشاعت میں تحریر کیا گیا ہے: لمبی چوڑی باتیں لکھنے کا وقت نہیں۔۔۔۔۔۔اس وقت ہم کم و بیش 150 ہزار افراد قادیان میں پناہ لئے بیٹھے ہیں۔ہمیں احمدیوں کی طرف سے زندہ رہنے کے لئے کھا نا مل رہا ہے بعض کو مکان بھی مل چکے ہیں۔مگر اس قصبہ میں اتنی گنجائش کہاں؟ ہزاروں آسمان کی چھت کے نیچے زمینی فرش پر پڑے ہیں جنہیں دھوپ بھی کھانا پڑتی ہے اور بارش میں بھی بھیگنا پڑتا ہے۔پھر بھی ہم جوں توں کر کے زندگی کے دن گزار رہے ہیں مگر جو نگی اب ملٹری اور پولیس کی طرف سے دی جا رہی ہے اور جو مصیبتیں اب نازل ہو رہی ہیں ان کا کیا علاج۔پچھلے جمعہ کو ہمیں یہاں سے قافلہ کی صورت میں ملٹری نے چلے جانے کا حکم دیا۔لیکن یہاں کے بھلے لوگوں نے ہمیں اس لئے روک لیا کہ حفاظت کے بغیر رستے میں لٹ جاؤ گے اور مارے جاؤ گے۔“ (19) اخبار ” نوائے وقت لاہور -1 اخبار ” نوائے وقت“ نے اپنی 22 ستمبر 1947 ء کی اشاعت میں لکھا:۔قادیان کا مورچہ قادیان مشرقی پنجاب میں ایک قصبہ ہے۔جہاں مسلمان ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔خاص قادیان میں مسلمانوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہ تھی کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مگر اردگرد کے دیہات سے ہزاروں مسلمانوں نے اس قصبہ میں پناہ لی ہے اور اب ایک روایت کے مطابق پچاس ہزار مسلمان قادیان میں پناہ گزین ہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس صوبہ سے نکالنا نہیں چاہتی۔مسٹر گاندھی بھی مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ واپس آجائیں مگر قادیان کے متعلق جہاں مسلمان ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں حکومت مشرقی پنجاب اور حکومت ہند دونوں کی پالیسی یہ معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر۔۔۔۔۔اور اگر ضرورت پڑے تو مار پیٹ کر۔۔۔۔۔قادیان سے نکال دیا جائے۔قادیان سے بعض معززین کی بلا وجہ گرفتاریاں ، قصبہ کا محاصرہ، ریل تار اور ڈاک کی بندش اور قادیان پر ہوائی جہاز کی پرواز کی ممانعت، یہ سب حربے اسی ایک مقصد کے پیش نظر استعمال کئے جار ہے