تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 246
تاریخ احمدیت بھارت 217 جلد اول شخص کے گھر میں دو بوریوں سے زیادہ آٹا یا گندم ہوگی اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔گویا اس کا صاف طور پر مطلب یہ ہے کہ قادیان کے لوگوں کا راشن اپنے قابو میں کر کے انہیں بھوکوں مارا جائے۔اس وقت ہزاروں پناہ گزین احمدیوں کے گھروں سے روٹیاں کھا رہے ہیں۔قادیان کے مسلمانوں نے حکومت سے راشن کے لئے درخواست نہیں دی اور حکومت (جس کا نام ایک تھانیدار اور چند۔۔۔(غیر مسلم ) سپاہی ہے ) قادیان سے غلہ غصب کر کے وہاں کے باشندوں اور پناہ گزینوں کو بھوکوں مارنا چاہتی ہے۔کیا دنیا میں کسی قوم پر اس سے بڑھ کر بھی ظلم وستم کیا جاسکتا ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت کیوں قادیان کی طرف توجہ نہیں دیتی۔کم از کم وہاں مسلمان ملٹری ہی بھجوادی جائے اور مشرقی پنجاب کی حکومت سے نوٹس لیا جائے کہ وہ کیوں قادیان کے باشندوں سے گندم زبردستی چھین رہی ہے۔لیڈر توجہ کریں پاکستان کے وزیر اعظم مسٹر لیاقت علی خاں اور میاں افتخار الدین صاحب ذرا اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لیں کیونکہ قادیان میں اب حالات انتہائی نازک صورت اختیار کر چکے ہیں۔اگر تم قصور نہ کرو گے رپورٹ میں ہمارے نامہ نگار نے ایک دلچسپ لطیفہ بھی سپر قلم کیا ہے کہ سکھا شاہی عہد کی عجیب و غریب حکایتیں سنا کرتے تھے مگر قادیان میں عملی طور پر دیکھ لی ہیں مثلاً ایک آدمی چلا جا رہا تھا کہ۔۔۔(غیر مسلم ) سپاہی نے اسے فوراً گرفتار کر لیا۔جب اس آدمی نے پوچھا۔میرا قصور کیا ہے تو یہ سن کر۔۔۔غیر مسلم ) سپاہی نے جواب دیا کہ اگر تم قصور نہ کرو گے تو کیا ہم تمہیں پکڑیں گے ہی نہیں؟ عام گرفتاریاں پولیس جس شخص کو چاہتی ہے گرفتار کر لیتی ہے۔چنانچہ اس وقت تک قادیان کے پچاس آدمیوں کے وارنٹ نکل چکے ہیں اور اگر دریافت کیا جائے تو کوئی جواب نہیں ملتا اور ادھر ادھر جھوٹے الزام لگا کر ٹال دیا جاتا ہے۔ہر طرف اندھیرا جو گندر نگر کی بجلی فیل ہو جانے سے قادیان میں تین دن سے اندھیرا رہا۔وہاں تیل بھی نہیں ہے۔بعض ضروریات زندگی تو پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔آٹا اور گندم رہ گئی تھی اس پر پولیس کا جبر و تشدد