تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 164 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 164

جلد اوّل 148 تاریخ احمدیت بھارت طریق سے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ان کا آخری حربہ یہ تھا کہ اپنے مذہب سے تو بہ کرو اور گئو موتر پی کر شدھ ہو جاؤ اسی صورت میں تمہاری جان بچ سکتی ہے۔جب 1947 ء کے خطرناک حالات ہو گئے تو انہوں نے پکا ارادہ کر لیا کہ کوئی یہاں سے زندہ نہ نکلنے پائے۔ہمارے تایا زاد بھائیوں نے وہاں سے نکلنے کی جو تد بیر اختیار کی وہ اس طرح ہے کہ ایک ایک دو دو کر کے مرد اور عورتوں کو وہاں سے نکالا۔تا کہ دشمنوں کو شک نہ پڑے۔بوڑھے اور بچے وہاں پر ہی چھوڑ دیئے۔اسلئے کہ ان کو اپنا بھی پتا نہیں تھا کہ ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔گھر سے نکلنے کے بعد زندہ رہیں گے یا نہیں۔کیونکہ 1947ء کے حالات بہت خراب ہو چکے تھے۔ہر طرف خون خرابہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے تایا زاد بھائیوں کو بخیریت پاکستان پہنچا دیا گیا۔سرسپور دہلی میں میرے والدین ، ہماری تائی ، ہم دو بھائی مکرم مہر دین اور خاکسار عمر الدین رہ گئے۔وہاں ہمارے ساتھ مخالفین کا رویہ بہت سخت تھا ہم پر مخالفین نے حملہ کر کے ہمیں ختم کرنے کا پلان بنا لیا تھا۔ہمارا پڑوسی ہندو ہمارے والد صاحب کا دوست تھا۔اسے علم ہو گیا۔اس نے رات کے وقت خفیہ طور پر ہمیں اپنے گھر میں پناہ دے دی۔اور کسی کو علم نہ ہونے دیا۔جب تک ہمارا قادیان آنے کا بندوبست نہیں ہو گیا۔تب تک اس ہندو نے ہمیں اپنے گھر میں ہی رکھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارا قادیان آنے کا سبب بنا دیا‘۔(38) سروعہ کا معرکہ اور احمدی شہداء تاریخ احمدیت میں سڑوعہ کے شہداء کا جہاں ذکر ہے وہاں تفصیل کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:۔"1901-02ء کے قریب سڑوعہ ( تحصیل گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور ) میں احمدیت کا آغاز ہوا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی یہاں ایک مخلص اور جاں نثار جماعت قائم ہو گئی تھی۔اس گاؤں میں ایک ہزار کے قریب مرد و زن اور بچے احمدی آباد تھے۔30 راگست 1947ء کو بوقت 9 بجے صبح ) 21 / ہزار مسلح۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے گاؤں پر حملہ کر دیا۔اس وقت سروعہ میں صرف پانچ بندوقیں تھیں مگر دڑے سات تھے جہاں سے۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بآسانی داخل ہو سکتے تھے۔احمدی و غیر احمدی مسلمانوں نے ان سات دروں پر اپنی حفاظتی چوکیاں قائم کر لیں اور تہیہ کر لیا کہ مر جائیں گے مگر۔۔۔۔(مفسده پردازوں) کو گاؤں کے اندر داخل ہونے نہیں دیں گے۔۔۔۔۔(مفسدہ