تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 77
تاریخ احمدیت بھارت 61 جلد اوّل حضرت میاں صاحب نے مفوضہ ذمہ داریوں کی بجا آوری کے لئے ایک نہایت عمدہ نظام قائم کر رکھا تھا اور مختلف سر بر آوردہ اصحاب کو اپنے نائب کی حیثیت سے مختلف کام سپر د کر دیئے تھے۔اس تعلق میں آپ نے 15 نومبر کو حضور کی خدمت میں لکھا کہ ”میرے ساتھ نائب کے طور پر ملک غلام فرید صاحب اور مرزا عبدالحق صاحب اور عبدالحمید صاحب عاجز اور دوسرے بھی دوست لگے ہوئے ہیں اور بچے بھی ہاتھ بٹاتے رہتے ہیں اکثر اوقات رات کے دو تین بجے تک اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ کام ہوتا ہے“۔اسی طرح حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو اطلاع دی کہ قادیان میں ڈاک کی وصولی اور روانگی کے متعلق میں نے عزیز مرزا وسیم احمد صاحب کو مقرر کیا ہے۔۔۔موقع پر شیخ مبارک احمد صاحب یا میاں ناصر احمد صاحب یا چوہدری محمد علی صاحب یا چوہدری ظہور احمد صاحب وصول کرتے ہیں اور پھر آگے میرے پاس بھجوا دیتے ہیں اور پھر میری نگرانی میں عزیز وسیم احمد صاحب کھول کر تقسیم کر وا دیتے ہیں“۔(15) اس بارہ میں مزید فرمایا کہ "حتی کہ ایک دن میں نے انتہائی بے بسی کی حالت میں حضرت صاحب کو خط لکھا کہ ہمارے اردگرد خطرہ کا دائرہ بڑی سرعت کے ساتھ تنگ ہوتا جارہا ہے اور آپ کی ہدایت یہ ہے کہ کسی صورت میں بھی حکومت کا مقابلہ نہ کیا جائے (اور حکومت کا مقابلہ ہماری تعلیم کے بھی خلاف ہے اور ہماری طاقت سے بھی باہر۔گو حق یہ ہے کہ اس وقت۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے اور حکومت گویا ایک معجون مرکب بنے ہوئے ہیں۔اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا مشکل ہے ) اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کی جان کو حتی الوسع بچاؤ کیونکہ ضائع شدہ جائیدادیں اور سامان تو پھر بھی مل جائیں گے مگر مومنوں کی ضائع شدہ جانیں جو گو یا حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے ہیں پھر نہیں ملیں گے۔تو اب مجھے بتائیں کہ میں ان ہزاروں ننگ و ناموس رکھنے والی عورتوں کے متعلق جو قادیان میں موجود ہیں، کروں تو کیا کروں۔مال کے مقابل پر بیشک قیمتی جان بچائی جاسکتی ہے اور مومن کی جان واقعی بہت بڑی چیز ہے۔مگر کیا میں اپنی آنکھوں کے سامنے احمدی عورتوں کے ننگ و ناموس کو خطرہ میں ڈال دوں اور سامنے سے ہاتھ نہ اٹھاؤں۔حضرت صاحب نے مجھے تسلی کا خط لکھا اور بعض ہدایتیں بھی دیں اور فرمایا کہ میں ان مشکلات کو سمجھتا ہوں۔مگر ادھر ہم زیادہ سے زیادہ ٹرک بھجوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔( گو پاکستان حکومت کے پاس ٹرک محدود ہیں اور اس نے سارے مشرقی پنجاب میں سے مسلمانوں کو نکالنا ہے ) اور ادھر تم جس طرح بھی ہو ہر ٹرک