تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 42
تاریخ احمدیت بھارت 39 مستقل خدام کی ڈیوٹیاں جلد اوّل 1947ء کے ابتدائی مہینوں میں ہی پنجاب کے مختلف علاقوں میں فسادات کی آگ بھڑکنا شروع ہوگئی تھی۔مارچ 1947ء میں امرتسر کے پچاس ہزار مسلمانوں پر گویا قیامت ٹوٹ پڑی۔اسی طرح اس آگ کے شعلے باقی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگے تھے۔اعلان آزادی کے بعد تین ہفتوں کے اندر اندر ان فسادات کے شعلوں نے قادیان کے قرب و جوار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ایسے سنگین اور صبر آزما حالات میں مستقل خدام کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی کہ قرب و جوار کے تمام دیہاتوں سے احمدی اور مسلم خواتین کو قادیان لایا جائے۔چنانچہ جماعت کے جانفروشوں نے یہ ذمہ سانے پر داری اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے انتہائی کامیابی سے نبھائی۔نبھاتے بھی کیوں نہ سیدنا حضرت اصلح الموعود اور تمام افراد جماعت کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں۔باقی مسلمانوں کے لئے ایسی دعائیں کرنے والا کوئی نہیں تھا۔